ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

افغان طالبان پر خواتین اور میڈیا کے حقوق محدود کرنے کے الزامات، مقامی ریڈیو اسٹیشن بند

افغان طالبان پر خواتین اور میڈیا کے حقوق محدود کرنے کے الزامات، مقامی ریڈیو اسٹیشن بند
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : افغان طالبان پر خواتین اور میڈیا کے حقوق محدود کرنے کے الزامات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔

 رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت نے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد اب ان کے میڈیا سے رابطوں پر بھی قدغنیں عائد کر دی ہیں۔

افغان میڈیا اداروں افغانستان انٹرنیشنل اورہشت صبح کی رپورٹس کے مطابق ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن کو اس وقت بند کر دیا گیا جب پروگرام کے دوران لڑکیوں کی کالز موصول ہونا شروع ہوئیں۔

رپورٹس کے مطابق مذکورہ ریڈیو اسٹیشن تعلیم سے محروم لڑکیوں کے لیے تعلیمی پروگرامز نشر کر رہا تھا۔افغان جرنلسٹس سینٹر   نے اس اقدام کو آزاد میڈیا کے خلاف کاری ضرب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیوں کے باعث ریڈیو اسٹیشن کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق طالبان حکومت پہلے ہی خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر چکی ہے اور اب ان کے میڈیا تک رسائی کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی تعلیم اور میڈیا تک رسائی پر پابندیاں بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سے معاشرے میں آزادی اظہار اور تعلیم کے مواقع مزید محدود ہو سکتے ہیں۔