سٹی42: لاہور یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی، جس کے بعد وہ ہسپتال میں زیر علاج ہے اور تاحال ہوش میں نہیں آئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق فاطمہ، آبائی علاقے نارنگ منڈی کی رہائشی، احمد نامی نوجوان کو پسند کرتی تھی اور اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ تاہم اہلخانہ اس شادی کے حق میں نہیں تھے اور طالبہ کو اپنی پڑھائی جاری رکھنے پر زور دے رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق شادی نہ ہونے کی وجہ سے دلبراشتہ ہو کر طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی۔ طالبہ کی آخری فون کال بھی احمد کے ساتھ تھی، جس کے بعد اس نے لڑکے کا نمبر ڈیلیٹ کر دیا۔ پولیس نے اہلخانہ کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں اور کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب یونیورسٹی آف لاہور کی چھت سے گرنے والی زخمی طالبہ کے علاج کے لیے میڈیکل بورڈ کی تشکیل نو کر دی گئی ہے۔ بورڈ کے اراکین کی تعداد 4 سے بڑھا کر 7 کر دی گئی ہے۔ بورڈ میں پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر خرم سلیم، شعبہ پلمونالوجی کے سربراہ ڈاکٹر جاوید مگسی اور ایسوسی ایٹ پروفیسَر گائنی ڈاکٹر سائرہ ذیشان شامل ہیں۔
سینئر ڈاکٹرز طالبہ کی مسلسل نگہداشت کر رہے ہیں جبکہ پرنسپل پروفیسر فاروق افضل بھی علاج کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔