ویب ڈیسک: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے اور پاکستان کی آئی ٹی و ٹیکنالوجی برآمدات کے 4 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
دوحہ فورم میں معاشی استحکام پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ قطر نے پاکستان کو برادر ملک قرار دیتے ہوئے نئی تجارتی شراکت داری قائم کی ہے جبکہ پاکستان اور جی سی سی کے مابین فری ٹریڈ ایگریمنٹ پہلے سے موجود ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق امریکا سے ٹیکسٹائل ٹیرف میں 19 فیصد ریلیف حاصل کیا گیا ہے، پرائمری بیلنس اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہیں، جبکہ شدید سیلاب کے باعث پاکستان کی جی ڈی پی میں 0.5 فیصد کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہنگامی کلائمیٹ فنانسنگ درکار ہے اور آئی ایم ایف نے پاکستان کی موجودہ معاشی اصلاحات کو درست سمت قرار دیا ہے۔ وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر کا ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی پروگرام مل چکا ہے۔
Federal Minister for Finance and Revenue Senator Muhammad Aurangzeb participated today in a high-level panel during the 23rd Doha Forum.
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) December 6, 2025
Invited by the Doha Forum, the Ministry of Finance of the State of Qatar, and the IMF, the Minister joined global leaders to discuss “Global… pic.twitter.com/atEySZWhcs
انہوں نے بتایا کہ سی پیک فیز ٹو میں حکومتی تعاون کے ساتھ سرمایہ کاری کو بزنس ٹو بزنس ماڈل کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان منرلز، مائننگ، اے آئی اور بلاک چین میں تعاون بڑھانے پر کام جاری ہے اور پاکستانی نوجوانوں کے لیے جدید ڈیجیٹل مہارتوں میں عالمی مواقع موجود ہیں۔
آخر میں قطر اور پاکستان نے دوطرفہ ملاقات میں ایف ٹی اے پر پیش رفت تیز کرنے پر اتفاق کیا جبکہ توانائی، ایل این جی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔