ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

یوٹیوبر رجب علی بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس بحال

یوٹیوبر رجب علی بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس بحال
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف:     پنجاب بار کونسل نے یوٹیوبر رجب علی بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کا لائسنس عارضی طور پر بحال کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق میاں علی اشفاق کے اعتراضات اور دلائل کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین نے لائسنس کی معطلی کا معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوادیا ہے۔

دوپہر 2 بجے پنجاب بار کونسل ہائیکورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ عدالت نے پہلے ہی پنجاب بار کو ہدایت کی تھی کہ میاں علی اشفاق کے اعتراضات سن کر حتمی فیصلہ کیا جائے۔

یاد رہے کہ میاں علی اشفاق نے پہلے بھی پنجاب بار کے لائسنس معطل کرنے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔

واضح رہے کہ  لاہور ہائیکورٹ یوٹیوبر رجب علی بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کے عدالت نے پنجاب بار کونسل سے لائسنس معطلی سے متعلق مکمل ریکارڈ طلب کر کے سماعت آج 6 جنوری تک ملتوی کر دی تھی۔جسٹس ملک محمد اویس خالد نے درخواست پر سماعت کی، جس میں میاں علی اشفاق نے پنجاب بار کونسل کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزار کی جانب سے شاہ زیب مسعود ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عدالت نے کراچی بار کو فریق بنانے سے متعلق متفرق درخواست بھی منظور کر لی۔

سماعت کے دوران میاں علی اشفاق کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈسپلنری کمیٹی کے پاس لائسنس معطل کرنے کا اختیار نہیں تھا اور معاملہ ٹربیونل کو بھیجا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے درخواست گزار کو سنے بغیر ایک ہی دن میں لائسنس معطل کر دیا، جو قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں کے خلاف تھا۔

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے ریمارکس دیے کہ آئین کے آرٹیکل 10A کے تحت کسی شخص کو سنے بغیر کارروائی نہیں کی جا سکتی اور عدالت نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی لائسنس معطل کر سکتا ہے۔

دوسری جانب پنجاب بار کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میاں علی اشفاق کا لائسنس قانونی تقاضوں کے مطابق معطل کیا گیا اور ایگزیکٹو کمیٹی کو لائسنس معطلی کا اختیار حاصل ہے۔ وکیل نے کہا کہ درخواست گزار پاکستان بار کونسل میں 30 دن کے اندر فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

سماعت کے دوران میاں علی اشفاق کے وکیل نے ابتدائی ریلیف کی استدعا کی کہ لائسنس کی معطلی کو معطل کیا جائے، تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل یا ان کا نامزد نمائندہ لائسنس معطلی سے متعلق مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کرے۔