سٹی42: لاہور میں 25 سال کے طویل انتظار کے بعد بسنت فیسٹیول کا شاندار آغاز ہو گیا ہے، جس کے ساتھ ہی شہر کا روایتی اور ثقافتی ورثہ ایک بار پھر زندہ ہو گیا۔ لاہور کا آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر گیا جبکہ فضا میں “بو کاٹا” کی صدائیں گونجتی رہیں۔ رواں صدی کے سب سے بڑے ثقافتی جشن میں شہریوں کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔
بسنت کے آغاز پر شہر بھر میں پتنگ بازوں کا جوش عروج پر نظر آیا۔ گھروں کی چھتیں آباد ہو گئیں، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے پڑے اور گلیوں محلوں میں جشنِ بہاراں کا سماں بندھ گیا۔ نوجوانوں سمیت ہر عمر کے افراد پتنگ بازی اور خوشیوں میں مصروف دکھائی دیے۔
لبرٹی چوک بسنت کے رنگوں میں رنگ گیا جہاں روشنیوں اور رنگ برنگی جھنڈیوں نے ماحول کو مزید دلکش بنا دیا۔ شہر کے بازاروں اور اہم شاہراہوں کو دلہن کی طرح سجایا گیا اور رات کے وقت پورا لاہور روشنیوں سے جگمگاتا رہا۔
رات بھر پتنگ بازی کے بعد شہری مختلف ناشتہ پوائنٹس پر پہنچ گئے۔ ناشتہ کرنے کے بعد نوجوان بڑی تعداد میں موچی گیٹ کا رخ کرتے رہے جہاں پتنگ بازی کے سامان کی خریداری جاری رہی۔ پتنگ اور ڈور مہنگی ہونے کے باوجود شہر بھر میں نایاب ہو چکی ہے، تاہم شوق میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔
بسنت فیسٹیول کے موقع پر شہر بھر میں خصوصی بس سروس چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق بسنت کے دوران پورا شہر خصوصی ٹرانسپورٹ سہولت سے کور کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت فیسٹیول تین روز تک جاری رہے گا اور 8 فروری تک لاہور کو پتنگوں کا شہر قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے لاہور پولیس کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ محفوظ اور خوشگوار بسنت کے لیے ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش، بدتہذیبی اور عوامی سکون میں خلل ڈالنے پر زیرو ٹالیرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت کی ہے جبکہ دھاتی، کیمیکل اور ممنوعہ ڈور کے استعمال پر بلا امتیاز کارروائی کے احکامات دیے گئے ہیں۔ ایئرپورٹ اور حساس تنصیبات کے اطراف پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی۔
لاہور پولیس کے مطابق بسنت فیسٹیول کے دوران شہر بھر میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور دس ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں ناکہ جات قائم کیے گئے ہیں جبکہ ڈولفن، پیرو اور ایلیٹ فورس کی ٹیمیں مسلسل پٹرولنگ کر رہی ہیں۔ سیفٹی راڈ نصب نہ کرنے پر متعدد موٹر سائیکل سواروں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
بسنت منانے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ لاہوریوں کا تہوار ہے اور سب کو مل کر اسے کامیاب بنانا چاہیے۔ شہریوں نے حکومتی ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ وہ بسنت کو محفوظ اور خوشگوار بنانے میں پولیس اور انتظامیہ سے تعاون کریں گے۔