سکولوں کی بندش کے فیصلے پر اساتذہ، والدین کا ردعمل

سکولوں کی بندش کے فیصلے پر اساتذہ، والدین کا ردعمل
Teachers Reactions

(اکمل سومرو)سکولوں کی بندش کے فیصلے پر اساتذہ، طلبا اور والدین نالاں، اساتذہ کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے، آن لائن کلاسز کسی بھی صورت فزیکل کلاسز کا متبادل نہیں ہو سکتیں، والدین کو بھی بچوں کےتعلیمی مستقبل کی فکر کھانے لگی۔

تفصیلات کے مطابق پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلبا کے لئےعید تک سکولوں کی بندش میں توسیع کر دی گئی۔ یہ طلبا گھروں میں بیٹھ کر آن لائن تعلیم حاصل کریں گے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ بچوں کو ابتدائی کلاسز میں زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کورونا ایس او پیز پر سب سے زیادہ عمل درآمد تعلیمی اداروں نے کیا۔ باقی سب کچھ کھول دیا گیا لیکن سکول بند ہیں۔

حکومت کے فیصلے سے طلبا اور والدین بھی خوش نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سکول بند ہونے سے ہونے والے تعلیمی نقصان کو پورا نہیں کیا جا سکے گا۔اساتذہ اور والدین کا کہنا ہے کہ جہاں زندگی کے باقی شعبے ایس او پیز کے ساتھ چل سکتے ہیں، وہیں سکولوں کو بھی کھولا جا سکتا ہے، حکومت اپنے فیصلوں میں سب کے مفاد کو مدنظر رکھے۔

واضح رہے کہ کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہونے پر لاہور سمیت پنجاب کے تیرہ اضلاع میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک تعلیمی اداروں کو عید تک بند رکھنے کا اعلان کیاگیا، نویں سے بارہویں جماعت کے طلباء ہفتے میں دو روز آئیں گے، امتحانات شیڈول کےمطابق لیے جائیں گے،صوبائی وزیرتعلیم مراد راس نے ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ 19 اپریل کو تمام نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کو ہفتے میں 2 دن کھولا جائے گا، سوموار اور جمعرات کے ایام میں 9 تا12 ویں کلاسز کے طلبا تعلیمی اداروں میں حاضر ہوں گے۔

صوبائی وزیرتعلیم نے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 13 اضلاع میں سکول کھو لیں جائیں گے، ان اضلاع میں لاہور،راولپنڈی،گجرات، گجرانوالہ،ملتان،بہاولپور،سیالکوٹ،سرگودھا،فیصل آباد،ٹوبہ ٹیک سنگھ،رحیم یار خان، شیخوپورہ اور ڈیرہ غازی خان شامل ہے۔