ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور:ملکی تاریخ کی پہلی مکمل انڈر گراؤنڈبلیولائن میٹروٹرین سروس شروع کرنےکافیصلہ

لاہور:ملکی تاریخ کی پہلی مکمل انڈر گراؤنڈبلیولائن میٹروٹرین سروس شروع کرنےکافیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :  زندہ دلان لاہور کو بہترین سفری سہولت کی فراہمی کیلئےٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ متحرک،پاکستان کی تاریخ کی پہلی مکمل انڈر گراؤنڈبلیولائن میٹروٹرین سروس شروع کرنےکافیصلہ کر لیا گیا۔

ذرائع پنجاب حکومت کے مطابق آئندہ مالی سال لاہور میں بلیو لائن منصوبہ لانچ کرنے کی تیاری کر لی گئی، فزیبیلٹی اور ڈیزائن ورک تیز کر دیا گیا جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بلیو لائن پر عملی کام شروع کر دیا۔

پنجاب حکومت ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی مکمل انڈر گراؤنڈ میٹرو سروس کی فزیبیلٹی رپورٹ تیاری کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کو فزیبیلٹی اور ڈیزائن جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، رپورٹ مکمل ہوتے ہی لاگت، فنانسنگ ماڈل اور تعمیراتی ٹائم لائن واضح ہو جائے گی۔

ذرائع کے مطابق 27 کلومیٹر طویل بلیو لائن پراجیکٹ کو تین سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے جبکہ ویلنشیا ٹاؤن سے بابو صابو چوک تک مکمل انڈر گراؤنڈ ٹریک کی تجویز زیر غور ہے، ٹریک میں جوہر ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، کلمہ چوک، گلبرگ، جیل روڈ، فیروزپور روڈ، وحدت روڈ اور علامہ اقبال ٹاؤن کے روٹ شامل ہیں۔

حکومتی ذرائع کا بتانا ہے کہ منصوبہ یومیہ ڈھائی لاکھ سے زائد مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت کا حامل ہو گا، منصوبے کی لاگت 600 ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے، ٹنل بورنگ مشینری روزانہ 6 میٹر تک کھدائی کرنے کی صلاحیت رکھے گی۔

منصوبے میں فنانسنگ کیلئے چین، جاپان اور فرانس کی مالیاتی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے جبکہ 2016 میں جائیکا اور ترک کنسلٹنٹس کی ابتدائی اسٹڈی مکمل ہو چکی ہے، جون 2024 میں نئی ٹرانسپورٹ اسٹڈی بھی کرائی گئی۔

ذرائع کے مطابق پہلی اسٹڈی میں 12 کلومیٹر انڈر گراؤنڈ تجویز تھا، اب پورا روٹ مکمل طور پر زیر زمین کرنے کا پلان ہے، آئندہ بجٹ میں بلیو لائن کیلئے ابتدائی فنڈنگ اور پی سی ون کی تیاری متوقع ہے، مالی سال 27- 2026 میں بلیو لائن منصوبے کو بجٹ میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔ 

ٹنل کی کھدائی کےلیے ہیوی مشینری ہومیہ 6 میٹر تک تعمیرات کرسکے گی۔بلیو لائن کی فنانسنگ کیلئے چائنہ، جاپان اور فرانس کی مالیاتی فرمز نے دلچسپی کا اظہارکیا ہے۔پنجاب ٹرانسپورٹ نے 2016میں جاپانی ادارے جائیکا اور ترکش ادارے عثمانی نے اسٹڈی مکمل کی تھی۔
پنجاب حکومت نےدوبارہ جون2024میں ٹرانسپورٹ سٹڈی کرائی ،نتیجے میں بلیولائن روٹ ہی کوفزیبل قراردیا۔بلیولائن کا روڈپہلی سٹڈی میں بھی 12 کلومیٹر انڈر گراؤنڈ تھا ، اب مکمل طور پر انڈر گراؤنڈ ہوگا۔