(ویب ڈیسک) برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو لاطینی امریکہ کا مہلک دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دل میں برازیل کے خلاف گہری نفرت ہے۔دو بڑی معیشتوں والے ممالک برازیل اور امریکہ کے تعلقات میں اس وقت کشیدگی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو پر زبانی حملہ کرتے ہوئے انہیں لاطینی امریکہ کا ’’ مہلک دشمن‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کے دل میں برازیل کے خلاف گہری نفرت ہے۔ واضح رہے کہ یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا حوالہ دیتے ہوئے برازیل کی درآمدات پر25فیصد محصول (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکی دی، جس کے بعد سفارتی تعلقات میں تیزی سے گراوٹ آئی۔
امریکی سینیٹ کی سماعت میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نےمغربی نصف کرہ کی جغرافیائی سیاست کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا برازیل اور کولمبیا علاقائی جمہوری شراکت داروں میں مستثنیٰ ہیں۔ مارکو روبیو نے استثنیٰ میں نکاراگوا، کیوبا، وینزویلا، کولمبیا، برازیل کا نام لیا۔ واضح رہےکہ برازیلین صدر لولا، جو اکتوبر کے انتخابات میں چوتھی بار تاریخی مدت کیلئےانتخاب لڑ رہے ہیں، کا الزام ہے کہ روبیو کا موقف برازیل کی سیاسی اپوزیشن کے اشتراک سے بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ ان کے اہم حریف قدامت پسند سینیٹر فلاویو بولسونارو ہیں، جو سابق انتہائی دائیں بازو کے صدر جائر بولسونارو کے بیٹے اور ٹرمپ انتظامیہ کے اتحادی ہیں۔
یہ امر قابل ذکرہے کہ برازیل اور امریکہ کے تعلقات اس وقت کشیدگی اور عملی تعاون کے درمیان جھول رہے ہیں۔ دونوں ملک مغربی نصف کرہ کی سب سے بڑی معیشتیں ہیں، لیکن سیاسی اختلافات اور تجارتی پالیسیوں نے تعلقات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکہ کی برازیل سے تجارت سرپلس ہے، یعنی امریکہ برازیل کو زیادہ برآمد کرتا ہے۔ اس کے باوجود ٹیرف کا استعمال جغرافیائی سیاسی مقاصد کے لیے کیا جا رہا ہے۔