احمد منصور: کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے20 سے 25 نقاب پوش دہشتگردوں کا انجمن تاجران کے سیکرٹری جنرل سردار ناصر ارباب اور کزن حسام پر 6 گھنٹے تک وحشیانہ تشدد,نیم مردہ حالت میں سڑک کنارے پھینک کر فرار،دہشتگردوں کی طرف سے شدید فائرنگ بھی کی گئی تا ہم فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جنڈالہ کراس کے قریب کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے درخت کاٹ کر مین سڑک بند کی گئی تھی جس کی وجہ سے ایک ایمبولینس جس میں ڈیڈ باڈی تھی پھنسی ہوئی تھی۔
انجمن تاجران ارجہ کے سیکرٹری جنرل سردار ناصر ارباب چند نوجوانوں کے ہمراہ ایمبولینس کے لیے راستہ بنانے کے لیے پہنچے ہی تھے کہ کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 20 سے 25 دہشتگردوں نے اندھادھند فائرنگ شروع کردی اور سردار ناصر ارباب اور اس کے کزن حسام کو گن پوائنٹ پر روک لیا اور تشدد کرتے ہوے راولاکوٹ کی طرف سڑک پر گھسیٹتے ہوئے ہلاں بازار تک لے گئے۔
ہلاں بازار سے ہائی ایس گاڑی جو پہلے سے وہاں موجود تھی میں ڈال کر پانیولہ لے گئے جہاں پر صبح 6 بجے تک تشدد کرتے رہے،سردار ناصر ارباب اور حسام ان کے ترلے کرتے رہے لیکن کالعدم تنظیم کے دہشگرد یہ کہتے ہوئے تشدد اور انتہائی بے ہودہ گالم گلوچ کرتے رہے کہ تم انتظامیہ کو دیگیں پکا کر دیتے ہو۔
سردار ناصر ارباب شدید تشدد کے باعث بے ہوش ہو گئے جنہیں بعدازاں نیم مردہ حالت میں ہلاں بازار کے پاس سڑک کنارے پھینک کر دہشتگرد فرار ہو گئے،اس واقع کے بعد تاجر برادری اور علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ارجہ کی تاجر برادری جلد پریس کانفرنس کے ذریعے نہ صرف کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کرے گی بلکہ کالعدم تنظیم کے خلاف اگلے لائع عمل کا بھی اعلان کریں گے۔
دریں اثنا انتشاری کمیٹی کے20 سے 25 شرپسندوں نے انجمن تاجران ارجہ کے سیکرٹری جنرل ناصر ارباب اور اس کے کزن حسام پر بدترین تشدد کیا، کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح غنڈوں نے اسلحہ کے زور پر ناصر ارباب اور حسام کو6 گھنٹے تک وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند بدترین تشدد کے بعد دونوں افراد کو بے ہوشی کی حالت میں راولاکوٹ کے قریب سڑک پر پھینک کر فرار ہو گئے ، جنڈالہ کراس کے قریب انتشاری کمیٹی کے شرپسندوں کی جانب سے سڑک کو بند کرنے سے ایمبولینس پھنس گئی ۔
انجمن تاجران ارجہ کے سیکرٹری جنرل ناصر ارباب چند نوجوانوں کے ہمراہ ایمبولینس کیلئے راستہ بنانے پہنچے تو شرپسندوں نے حملہ کر دیا ،انتشاری کمیٹی کے شرپسندوں نے ہلاں بازار تک دونوں افراد کو گھیسٹا اور پھر گاڑی میں ڈال کر پانیولہ لے گئے جہاں پر6 گھنٹے تک تشدد کرتے رہے۔
آزاد کشمیر کی تاجر برادری سمیت تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے انتشاری کمیٹی کے شرپسندوں سے تنگ آ چکے ہیں ،مسلح جتھے اور آزاد کشمیر کے شہریوں پر بدترین تشدد کرنے والے یہ غنڈے کبھی بھی عوام کے حقوق کے محافظ نہیں ہو سکتے۔