ملک رحمان:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نئے مالی سال کے آغاز پر حکومتی ترجیحات اور پالیسی واضح کرتے ہوئے کابینہ اراکین، مشیران اور انتظامی سیکرٹریز کو اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔ کرپٹ اور نااہل افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی بااثر حلقے سے ہو۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبے میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائیگا اور کسی بھی سطح پر بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کرپٹ اور نااہل افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی بااثر حلقے سے ہو۔
انہوں نے کہا کہ محکموں کی کارکردگی کا اصل معیار عوام کا اطمینان ہوگا، محض اچھی پریزنٹیشنز کافی نہیں بلکہ عوامی مسائل کا عملی حل ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ نے تمام وزراء کو ہدایت کی کہ وہ ہر ماہ کم از کم سات اضلاع کا دورہ کریں، عوام سے براہِ راست رابطہ رکھیں اور مسائل کے فوری حل کو یقینی بنائیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ عوامی شکایات اور ان کے ازالے کا روزانہ جائزہ لیں گے، جبکہ شکایات کے بروقت ازالے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ اپنے کمپلینٹ سیلز قائم کرکے انہیں وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے منسلک کیا جائے۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عمران خان کے وژن کی عکاسی کرنے والے تمام سگنیچر منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت تمام جاری منصوبوں کی رفتار تیز کی جائے، ڈی ایف سی اسکیموں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے اور نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے واضح ٹائم لائنز مقرر کی جائیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی جانب سے کسی بھی معاملے پر رابطے کی صورت میں 24 گھنٹوں کے اندر پیش رفت یا نتیجہ سامنے آنا چاہیے۔ انہوں نے وزراء، مشیران اور انتظامی سیکرٹریز کو باہمی رابطہ مضبوط بنانے، میرٹ، شفافیت اور مشاورت کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے تمام محکموں کو مؤثر کمیونیکیشن اسٹریٹجی مرتب کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو حکومتی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں سے بروقت اور مؤثر انداز میں آگاہ کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ تین ماہ بعد تمام محکموں کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کی بنیاد پر سزا و جزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔