بزدار حکومت نے سرکاری سکولوں کے نان سیلری بجٹ میں کٹ لگا دیا

بزدار حکومت نے سرکاری سکولوں کے نان سیلری بجٹ میں کٹ لگا دیا

ٹاؤن شپ (علی رامے) بزدار حکومت نے سرکاری سکولوں کے نان سیلری بجٹ میں کٹ لگا دیا، نان سیلری بجٹ کی مد میں 18 ارب روپے کی ڈیمانڈ جبکہ 13 ارب چالیس کروڑ رکھے گئے۔

 پنجاب حکومت نے نئے مالی سال میں مالی بحران کی آڑ میں سرکاری سکولوں کے بجٹ کو بھی نہیں بخشا، ذرائع کے مطابق سرکاری سکولوں کے ترقیاتی بجٹ کیساتھ ساتھ نان سیلری بجٹ کو بھی کم کر دیا گیا ہے، نئے مالی سال سرکاری سکولوں کیلئے نان سیلری بجٹ کی مد میں مجموعی طور پر 18 ارب روپے کی ڈیمانڈ کی گئی جس میں کٹ لگا کر فنڈز 13 ارب چالیس کروڑ روپے تک کر دیئے گئے ہیں، مالی سال 19-2020 میں بھی بجٹ کا اجرا پچھلے مالی سال کی نسبت کم ہوا۔

 ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال میں دو ارب روپے سے زائد کا کٹ نان سیلری بجٹ پر لگایا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نان سیلری بجٹ سے سرکاری سکولوں کے بجلی کیبل کی ادائیگی اور دیگر اخراجات کیے جاتے ہیں، سرکاری سکولوں میں پارٹ ٹائم میں رکھے گئے اساتذہ کی تنخواہیں بھی اس بجٹ سے ادا کی جاتی ہیں۔

دوسری جانب صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس کا کہنا ہے کہ اگر حالات بہتر ہوئے تو پندرہ اگست سے لاہور سمیت صوبہ بھر کے سکول کھول دیئے جائیں گے، لیکن سکولوں کو ایک ساتھ ساری کلاسز لگانے کی اجازت نہیں ہوگی، پہلے مرحلے میں ضروری کلاسز لگانے کی اجازت دیں گے، ایک وقت ایک کلاس میں بیس بچے بٹھائے جاسکیں گے جبکہ زائد بچے بٹھانے پر پابندی ہوگی۔

واضح رہے کہ15 جون کو پنجاب حکومت  نے مالی سال 2020-21  کے لیے  22 کھرب 40 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ ٹیکس کی شرح میں کمی کا بھی اعلان کیا گیا ہے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اخراجات کا مجموعی حجم کا تخمینہ2115 ارب روپے لگایا گیا جس میں اخراجات جاریہ کے حجم کا تخمینہ 1778ارب اورترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 337 ارب روپے لگایا گیا ۔