طلبہ کہ فیسوں میں 12 فیصد اضافہ

طلبہ کہ فیسوں میں 12 فیصد اضافہ

(اکمل سومرو) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا بجٹ خسارہ 57 کروڑ سے زائد ہوگیا، خسارے کے پیش نظر طلبہ کہ فیسوں میں 12 فیصد اضافہ کر دیا گیاہے۔

یو ای ٹی کا بجٹ خسارہ بڑھنے سے مالی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔بجٹ خسارے کے پیش نظر یو ای ٹی بینکوں اور مختلف ڈیپارٹمنٹس سے قرض لینے پر مجبور ہے۔یونیورسٹی میں مالی خسارہ 57 کروڑ پچاس لاکھ سے زائد ہوگیا ہے۔ بجٹ خسارہ بڑھتے ہی جون کے مہینے کی تنخواہوں سے 35 فیصد کٹوتی کی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے گرانٹ نہ ملنے کہ صورت میں بجٹ خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ پنجاب حکومت نے بھی یو ای ٹی کو فنڈز فراہم کرنے سے ہاتھ اٹھا لیے ہیں۔ بجٹ خسارے کے پیش نظر یو ای ٹی کی سنڈیکیٹ نے فیسوں میں 12 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے گزشتہ دس سال کے مالی آڈٹ کا مطالبہ،، ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن نے یونیورسٹی کے مالی بحران کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے آڈٹ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

صدر ٹی ایس اے ڈاکٹر فہیم اعوان گوہر نے وائس چانسلر کو مالی بحران سے متعلق مراسلہ لکھا ہے۔ ڈاکٹر فہیم گوہر کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کا مالی بحران ایک روز میں پیدا نہیں ہوا، اصل کرداروں کا تعین کیا جائے۔

ڈاکٹر فہیم اعوان کہتے ہیں کہ یونیورسٹی ملازمین کی تنخواہوں پر 35 فیصد کٹوتی غیر معمولی اقدام ہے، یو ای ٹی کے دس سالہ مالی معاملات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے۔وائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک کٹوتی 3 مہینے تک ہوگی۔ ڈاکٹر فہیم گوہر کا کہنا ہےکہ  تنخواہوں کی کٹوتی بند ہونے اور دس سالہ مالی آڈٹ کرانے تک احتجاج جاری رہے گا۔