سٹی42:پروگرام ’’بنام سرکار‘‘میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عاصم جاوید نے ملاوٹ کے خلاف کارروائیوں اور درپیش قانونی مشکلات پر کھل کر گفتگو کی۔
پروگرام کے اینکر پرسن زوہیب سلیم بٹ نےڈی جی فوڈ اتھارٹی کے سامنے مختلف عوامی نوعیت کے سوالات رکھے،پروگرام کے دوران ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید نے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ فوڈ اتھارٹی ملاوٹ کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے اور متعدد مقدمات بھی درج کروائے جاتے ہیں، تاہم عدالتوں کا رویہ انتہائی نرم ہے، ملاوٹ میں ملوث افراد ایف آئی آر کے بعد عدالتوں سے آسانی سے ضمانت حاصل کر لیتے ہیں اور پھر کسی دوسری جگہ جا کر دوبارہ وہی غیر قانونی کام شروع کر دیتے ہیں۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق ملاوٹ انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس کے سدباب کے لیے سخت قوانین اور مؤثر عدالتی کارروائی ناگزیر ہے، جب تک ملاوٹ کرنے والوں کو سخت سزائیں نہیں ملتیں اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے پینے کے پانی کے فلٹر پلانٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ متعدد فلٹر پلانٹس مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے اور عوام کو غیر محفوظ پانی فراہم کر رہے ہیں، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ناقص اور غیر معیاری فلٹر پلانٹس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں، لیکن بعض مالکان معمولی جرمانے یا قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ کام شروع کر دیتے ہیں۔
پروگرام میں اینکر زوہیب سلیم بٹ نے عوامی شکایات اور فوڈ سیفٹی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے، جن پر ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے ادارے کی کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی سے آگاہ کیا اوربتایاکہ ادارہ ملاوٹ کے خاتمے اور عوام کو محفوظ خوراک و صاف پانی کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ اور عوام کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
پروگرام کے میزبان زوہیب سلیم بٹ نے گفتگوختم کرتے ہوئےکہا کہ عوامی صحت جیسے اہم مسئلے پر مؤثر قانون سازی اور سخت عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے بغیر ملاوٹ جیسے جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔