سٹی 42: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اردن کے دارالحکومت عمان میں یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیرقانونی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف پر انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کے مسلسل دھاووں، غیرقانونی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کر رہا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم یا اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری تسلیم نہیں کی جا سکتی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر ہاشمی سرپرستی کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اردن کی وزارت اوقاف سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور کے محکمے کو مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف کا واحد قانونی نگران ادارہ تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کا مکمل 144 دونم رقبہ مسلمانوں کی خالص عبادت گاہ ہے اور اس کی حیثیت تبدیل کرنے یا تقسیم کی ہر کوشش مسترد کی جانی چاہیے۔
انہوں نے مغربی کنارے میں غیرقانونی اسرائیلی آبادکاری، نئی بستیوں کے قیام، آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور فلسطینی عوام کے خلاف کارروائیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسیاں بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کے منافی ہیں۔
اسحاق ڈار نے غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی اور امن منصوبے کے بعض حصوں پر عمل درآمد سے کچھ بہتری آئی ہے، تاہم انسانی بحران بدستور برقرار ہے۔ ان کے مطابق غزہ کی 59 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، جبکہ جنگ بندی کے بعد بھی ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جس سے امن منصوبے پر مؤثر عملدرآمد سے متعلق خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، عرب اور اسلامی ممالک کی سفارتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے اور بین الاقوامی قانون پر مکمل عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام اور ان کے جائز مؤقف کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن کا واحد حل 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔