احسن عباسی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک پاکستان میں اسلامی بینکاری نظام کے فروغ اور ربا سے پاک مالیاتی نظام کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2027 کے بعد کے بینکاری نظام سے متعلق اپنی حکمت عملی واضح کر دی ہے اور اسٹیٹ بینک ریگولیٹری فریم ورک کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ بنانے پر کام کر رہا ہے۔
ایک تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے جمیل احمد نے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ عوام کو معاشی طور پر خودکفیل بنانے، آئی ٹی کورسز کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور "اپنا کاروبار" جیسی اسکیموں کے ذریعے قابل قدر کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے سیلانی کی جانب سے اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی بھی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے کی ترقی سے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوگا، جبکہ اسٹیٹ بینک فری لانسرز کے لیے مزید سہولیات فراہم کرنے پر بھی کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر بھیجنے کے عمل کو مزید آسان بنایا جائے گا اور شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا گیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ گزشتہ سال زرمبادلہ کے ذخائر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچے تھے، جبکہ مختلف مالیاتی اسکیموں پر بھی کام جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 16 اپریل 2026 سے ہائبرڈ سکوک کا اجرا کیا جا چکا ہے، جبکہ شارٹ ٹرم سکوک کلچر کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی بینکوں کو ٹی بلز کا متبادل نظام فراہم کر دیا گیا ہے، جس سے مارکیٹ کو ایک مؤثر بینچ مارک میسر آئے گا۔
جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے بینکوں، جامعات اور مدارس کے ساتھ مل کر آگاہی پروگرام اور کانفرنسز کا انعقاد کر رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کے تعاون سے اسلامی مالیاتی نظام کو مزید مستحکم اور مؤثر بنایا جائے گا۔