بابر شہزاد تُرک: وفاقی بیوروکریسی میں اعلیٰ سطح کی ترقیوں کا عمل گزشتہ 16 ماہ سے تعطل کا شکار ہے، جہاں گریڈ 21 سے 22 میں ترقیوں کے لیے ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس تاحال منعقد نہیں ہو سکا۔
ذرائع اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق بورڈ کا آخری اجلاس مارچ 2025 میں ہوا تھا، جبکہ اگلا اجلاس رواں ماہ اگست میں متوقع ہے، جس کے انعقاد کے لیے تمام انتظامی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں تاخیر کے باعث سینئر بیوروکریسی میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ گریڈ 21 کے متعدد افسران ترقی کے منتظر رہتے ہوئے ریٹائر بھی ہو چکے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق اب صرف وزیراعظم آفس سے ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس طلب کرنے کے گرین سگنل کا انتظار ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کے اجلاس کی صدارت وزیراعظم یا نائب وزیراعظم کریں گے، جبکہ سندھ سے بلاول بھٹو زرداری اور پنجاب سے اسحاق ڈار بھی اجلاس کا حصہ ہوں گے۔
اجلاس میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 8، پولیس سروس کے 6، سیکرٹریٹ گروپ کے 4 افسران سمیت مختلف سروسز اور گروپس کے 25 سے زائد افسران کی گریڈ 22 میں ترقیوں پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور، آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم اور آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کی گریڈ 22 میں ترقی کے کیسز بھی زیر غور آئیں گے۔ اس کے علاوہ ان لینڈ ریونیو سروس اور انفارمیشن گروپ کے ایک، ایک افسر کی ترقی پر بھی غور کیا جائے گا۔
ذرائع اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا کہنا ہے کہ اجلاس کے بعد کئی وفاقی وزارتوں میں سیکرٹریز کی سطح پر بڑے پیمانے پر تقرریوں اور تبادلوں کا امکان ہے، جبکہ قائم مقام چارج پر فرائض انجام دینے والے متعدد سیکرٹریز کو اپنی متعلقہ وزارتوں میں مستقل تعیناتی ملنے کی توقع ہے۔