(ویب ڈیسک)بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سابق ڈائریکٹر جنرل محمد البرادعی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف 48 گھنٹے کا الٹی میٹم جاری کئے جانے کے بعد خلیجی ممالک سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ آئی اے ای اے کے سابق سربراہ نے تباہ کن فوجی تصادم کے اندیشے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں پڑوسی خلیجی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ براہ کرم، ایک بار پھر اپنی پوری طاقت جھونک دیں۔ اس سے پہلے کہ یہ پاگل شخص خطے کو آگ کا گولہ بنادے۔
الى حكومات الخليج :
— Mohamed ElBaradei (@ElBaradei) April 4, 2026
رجاءا مجددا القيام بكل ما في وسعكم قبل ان يقوم هذا المعتوه بتحويل المنطقة إلى كرة من لهب … https://t.co/r5esCaDODZ
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق غورطلب ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ایک بار پھر ایران کو امن معاہدے تک پہنچنے کا الٹی میٹم جاری کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یاد کیجئے، جب میں نے ایران کو امن معاہدہ کرنے کے لیے 10 دن کا وقت دیا تھا یا آبنائے ہرمز کو پھر سے کھولنے کے لیے کہا تھا وقت تیزی سے نکل رہا ہے،48 گھنٹے بعد ان پر قہر ٹوٹے گا۔ محمد البرادعی نے اپنی اپیل کو عالمی پلیٹ فارم تک پہنچاتے ہوئے جنگ کو روکنے میں بین الاقوامی اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ روس، چین اور فرانس کو مخاطب کرتے ہوئے ایک الگ پوسٹ میں انہوں نے پوچھا کہ کیا اس پاگل پن کو روکنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا؟
#MiddleEast | 'Stop This Madness': Ex-IAEA Chief Urges UN, Gulf Leaders To Act On Trump's 48-Hour Hormuz Warninghttps://t.co/vpM8XpGXhR
— News18 (@CNNnews18) April 5, 2026
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 26 مارچ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ڈرامائی انداز میں 6 اپریل 2026 تک ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر امریکی حملوں کو روکنے کی بات کہی تھی۔ اس وقت امریکی صدر نے دلیل دی کہ یہ فیصلہ ایرانی حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ تاہم ایران نے صاف طور پر کہا کہ اس نے جنگ بندی کے حوالے سے کسی سے بات نہیں کی ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سفارتی بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔تاہم امریکی صدر کے اس اعلان کے باوجود ایران پر اسرائیلی حملے جاری رہے۔ اس کے نتیجے میں ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کر دیا۔ ایران نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ جنگ بندی اور مذاکرات کی آڑ میں تہران کو نشانہ بنا رہا ہے۔
یادرہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران کو جنگ بندی معاہدہ کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے بدترین کارروائیوں کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ نے 30 مارچ کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدہ نہ کرنے اور 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور ڈی سیلی نیشن پلانٹس پر حملے کیے جائیں گے۔ امریکی صدر نے گزشتہ روز بھی ایران کے خلاف نہایت سخت اور جارحانہ مؤقف اپناتے ہوئے پیغام دیا تھا کہ فوری معاہدہ نہ کیا گیا تو سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔