ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سو خطرناک قیدی رہا کرنا، چالیس ہزار طالبانوں کو واپس لانا سنگین غلطی تھا، اسحاق ڈار

 General Faiz Hameed, Pakistan Afghanistan Tension, City42, Afghan Taliban, TTP terrorists
کیپشن: سابق وزیراعظم عمران خان کے دستِ راست جنرل فیض حمید کا کابل جا کر چائے کا کپ پینا   ستمبر  2021 میں میڈیا میں  بہت مشہور ہوا تھا، آج سینیٹ میں اس چائے کے کپ کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا، وہ کپ پاکستان کو بہت مہنگا پڑا۔ (جنرل فیض حمید کی کابل میں چائے کے کپ کے ساتھ  فائل فوٹو )
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں مسلسل بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ باوجود ان کی ذاتی کوشش اور پاکستان کی کوششوں کے، تعلقات میں بہتری نہیں آ سکی۔

 سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ہم وہاں صرف ایک کپ چائے کے لیے گئے لیکن وہ ایک کپ چائے ہمارے لیے بہت مہنگا ثابت ہوا۔

4 ستمبر 2021 کو پی ٹی آئی کیے بانی کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ان کے دستِ راست جنرل فیض حمید افغان طالبان کی دعوت پر  افغانستان  کے دارالحکومت کابل گئے تھے جہاں ان کی چائے کے کپ کے ساتھ تصویر دنیا بھر کے میڈیا میں اور سوشل میڈیا میں بہت مشہور ہوئی تھی۔ اس وقت افغان طالبان  نے کابل پر قبضہ کیا ہی تھا اور  جنرل فیض حمید طالبان کے ساتھ دوستی اور دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مستقبل پر بات چیت کرنے کیلئے کابل گئے تھے۔

 اسحاق ڈار نے کہاکہ(جنرل فیض حمید کے اس دورے کے)  نتیجے میں 35 سے 40 ہزار طالبان واپس آئے اور پچھلی حکومت نے 100 ایسے مجرموں کو رہا کیا جنہوں نے سوات میں پاکستانی پرچم جلایا  تھا اور سینکڑوں افراد کو شہید کیا تھا۔  یہ سب سے بڑی غلطی تھی، نائب وزیراعظم نے مزید کہاکہ ملک کو درپیش مسائل اس حد تک بڑھ گئے کہ ملک سنہ 2012 کی حالت پر واپس چلا گیا۔

اسحاق ڈار بےبسی محسوس کرنےلگے

 افغانستان کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے 6 دن پہلے انہیں 6 مرتبہ فون کیا۔

 انہوں نے کہاکہ آپ نے ہم سے صرف ایک بات مانگی تھی کہ افغانستان کی زمین سے پاکستان میں کوئی دہشتگردانہ کارروائیاں نہ ہوں لیکن یہاں تک آ گئے ہیں کہ میں بھی، جو آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں، بے بس محسوس کر رہا ہوں۔

Caption  وزیر خٓرجہ اسحاق ڈار کی افغان طالبان کے وزیر خارجہ ملا متقی کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران بنی فوٹو۔  ملا متقی کے بھارت کے کئی روز کے دورے کے دوران پاکستان کی سرحدوں پر صورتحال خراب ہوئی اور  شدید جھڑپوں میں کئی پاکستانی فوجی شہید ہوئے جس کے جواب میں پاکستان نے طالبان فوج کے سینکڑوں اہلکاروں کو مارا۔

 اسحاق ڈار نے کہاکہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تمام مسائل کا پرامن حل چاہتا ہے۔ انہوں نے خطے کے لیے پاکستان، ازبکستان اور افغانستان کے ٹرانس ریلوے منصوبے کو فائدہ مند قرار دیا۔

 انہوں نے کہاکہ ہم اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ بہترین تعلقات کے خواہاں ہیں اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کاوشیں کی گئی ہیں،  ہمیں متحد ہو کر دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے اپوزیشن کی تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ 

 اسحاق ڈار نے مزید کہاکہ 2012 اور 2013 میں ملک بھر میں دہشت گردی عروج پر تھی، ماضی میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کیے گئے اور مالی مشکلات کے باوجود دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے، انہوں نے زور دیا کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔