طیب سیف: قومی ایئرلائن کے انجینئرنگ وِنگ اور انتظامیہ کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث ایئرکرافٹ انجینئرز نے طیاروں کی سیفٹی کلیئرنس روک دی ہے۔ احتجاج کے نتیجے میں قومی ایئرلائن کا بین الاقوامی آپریشن متاثر ہوا اور چھ پروازیں اڑان نہ بھر سکیں۔
متاثرہ پروازوں میں لاہور سے مدینہ، اسلام آباد اور کراچی سے جدہ جانے والی پروازیں شامل ہیں، جبکہ لاہور سے ابوظہبی اور اسلام آباد سے دمام و دبئی جانے والی پروازیں بھی تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوئیں۔
سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز پاکستان کے مطابق، سیفٹی خدشات کے پیش نظر جہازوں کی تکنیکی تصدیق عارضی طور پر معطل کی گئی ہے۔ انجینئرز کا کہنا ہے کہ ضوابط کی خلاف ورزیوں اور دباؤ کے باعث وہ غیر محفوظ حالات میں کام جاری نہیں رکھ سکتے۔
ان کے مطابق، “یہ احتجاج یا ہڑتال نہیں بلکہ ضابطہ جاتی اقدام ہے، اور طیارے صرف مکمل سیفٹی کلیئرنس کے بعد ہی ریلیز کیے جائیں گے۔”
سوسائٹی کا کہنا ہے کہ انجینئرز اپنی ذمہ داریاں سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) اور ہوابازی کے قوانین کے مطابق انجام دے رہے ہیں اور مسافروں کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے انتظامیہ نے تاحال مذاکرات کا آغاز نہیں کیا۔
دوسری جانب ترجمان پی آئی اے نے اس اقدام کو ایک مذموم سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تحریک کا بنیادی مقصد پی آئی اے کی نجکاری، جو اپنے حتمی مراحل میں ہے، کو سبوتاژ کرنا ہے۔ ترجمان کے مطابق، “سیفٹی کا بہانہ بنا کر منصوبے کے تحت بیک وقت کام چھوڑنا پی آئی اے کے مسافروں کو زحمت دینے اور انتظامیہ پر ناجائز دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔”
ترجمان نے مزید کہا کہ سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، اور پی آئی اے میں لازمی سروسز ایکٹ نافذ ہے جس کے تحت ہڑتال یا کام چھوڑنا قانونی طور پر جرم ہے۔ انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی ایکشن لیا جائے گا۔
پی آئی اے حکام کے مطابق آپریشن کو متبادل ذرائع سے بحال کیا جا رہا ہے۔ پی کے 245 (اسلام آباد تا دمام) اور پی کے 761 (اسلام آباد تا جدہ) سمیت کچھ پروازیں روانہ کر دی گئی ہیں، جبکہ دیگر پروازوں کی ٹیک لاگز کلیئر کروا کر انہیں بھی روانہ کیا جا رہا ہے۔