ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی کی نئی اشتعال انگیزی؛  بھارت نے چناب کا پانی روکنے کا آغاز کر دیا

Indus Waters Treaty, Sindh Taas Muahida, Chanab River's water, Bagalhyar Dam, Kashmir conflict
کیپشن: انڈیا کا میڈیا آج اتوار کے روز بتا رہا ہے کہ انڈیا کی حکومت نے بگلہیار ڈیم پر سپل ویز کے گیٹ نیچے کر کے پاکستان آنے والے پانی کو روکنے کی ابتدا کر دی ہے۔ پاکستان پہلے ہی اپنے تین دریاؤں کا پانی روکنے کی کسی کوشش کو جنگ کا اقدام تصور کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔  چناب پر بگلہیار ڈیم کا بننا ہی  1960 کے  انڈس واٹر زٹریٹی کی خلاف ورزی تھا، لیکن بھارت نے ہمیشہ یہ جواز پیش کیا کہ وہ اس ڈیم سے صرف بجلی بناتا ہے اور اسے دریا کے پانی کے بہاؤ کو ڈسٹرب کرنے کے لئے استعمال نہیں کرتا۔  اب انڈیا خود یہ تسلیم کر رہا ہے کہ وہ انڈس واٹرز ٹریٹی کی کھلی وائلیشن کر رہا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی پیدا کردہ یہ صورتحال پاکستان ہی نہیں بلکہ اقوام عالم کے لئے بھی ایک چیلنج ہے۔ کیونکہ یہ علاقائی سلامتی اور امنِ عالم کو سنجیدہ مسائل سے دوچار کر رہی ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  بھارت کے کینہ پرور پرائم منسٹر نریندر مودی نے پاکستان کی وارننگز کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کے ملکیتی دریا چناب کا پانی روکنے کے لئے  عملی اقدامات کا آغاز کر دیا۔ یہ بات انڈیا کی لیڈنگ نیوز آؤٹ لیٹ انڈین ایکسپریس کے دو سینئیر صحافیوں نے آج 4 مئی کو اپنی ایک خبر میں بتائی ہے.

پہلگام  میں انڈیا کے  26 سیاحوں کے قتل کے بارہ روز بعد بھی انڈیا کی حکومت اس سانحہ میں ملوث افراد کو سامنے نہیں لائی، کسی تنظیم کے اس حملے میں ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہیں لائی، اور بھارت اور دنیا بھر میں اٹھائے جا رہے منطقی سوالات کو نطر انداز کر کے پاکستان کے خلاف یکطرفہ اشتعال انگیز کارروائیوں کو بڑھاوا دیتے ہوئے اب بگلہیار ڈیم کے ذریعہ پاکستان کے ملکیتی دریا چناب کا پانی روکنے کی سازش کر رہی ہے۔

بگلہیار ڈیم کے سپل ویز کے دروازوں سے پاکستان آنے والے پانی کو روکنے کی ابتدا

انڈین ایکسپریس کے مینیجنگ ایڈیٹر  پی ویدیا ناتھن آئیر  اور سینئیر ڈپلومیٹک رپورٹر  شبھاجیت رائے نے اپنی اتوار کے روز شائع ہونے والی خبر میں بتایا ہے کہ پہلگام حملے کے صرف 10 دن بعد ہندوستان نے "پاکستان کے خلاف اقدامات کے دوسرے سیٹ " کے ساتھ اپنی  کارروائی کو تیز کیا ہے. اس میں بگلیہار ڈیم کے ذریعے چناب دریا کے پانی کے بہاؤ کو روکنا؛ پاکستانی مصنوعات کی درآمد کو روکنا؛ پاکستان کے ملکیتی بحری جہازوں کی انڈیا کی بندرگاہوں پر ڈاکنگ پر پابندی اور تمام ڈاک اور پارسلز کے تبادلے کو معطل کرنا شامل ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مینیجنگ ایڈیٹر اور ڈپلومیٹک رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ  اسلام آباد میں گرمی کا رخ موڑتے ہوئے، انڈیا کی حکومت نے سندھ آبی معاہدے کو التواء میں ڈالنے کے ایک حصے کے طور پر ایک اہم اگلا قدم نافذ کیا ہے۔ انہوں نے ایک سینئر اہلکار کے ھوالے سے  بتایا کہ بگلیہار ڈیم پر سلائس سپل ویز کے گیٹ نیچے  کی طرف سرکا   دیئے گئے ہیں تاکہ پاکستان کے پنجاب میں پانی کے بہاؤ کو محدود کیا جا سکے۔


انڈین ایکسپریس کے مینیجنگ ایڈیٹر نے اعتراف کیا کہ انڈیا نے (پاکستان کے ملکیتی) دریائے چناب پر واقع بگلیہار ڈیم کو ہائیڈرو پاور جنریشن کے لیے رن آف دی ریور پلانٹ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ چناب انڈس واٹر سسٹم کے مغربی (پاکستان کے ملکیتی) دریاؤں میں سے ایک ہے اور یہ معاہدہ بجلی کی پیداوار کے لیے اس (چناب) کے پانی کو استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مینیجنگ ایڈیٹر نے لکھا کہ "ایسا کرنے سے، چاہے گھٹن تھوڑی دیر کے لیے ہی کیوں نہ ہو، ہم یہ ظاہر کر رہےہیں کہ ہم زبردستی کے اقدامات کریں گے... دریائے چناب کا پانی (پاکستانی) پنجاب کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، اور پاکستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا مطلب ہر محاذ پر انہیں سزا دینا ہے۔"

پاکستان کے ابدالی میزائل تجربہ پر نئی دہلی میں کھلبلی

انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ میں پاکستان کے ایک دن پہلے کئے گئے ابدالی میزائل کے تجربہ کا تشویش سے ذکر کیا گیا اور نئی دہلی میں مرکزی حکومت کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ دہلی میں ایک اہلکار نے اسے "بھارت کے خلاف اپنی دشمنی مہم میں پاکستان کی طرف سے اشتعال انگیزی کی ایک لاپرواہی اور خطرناک اضافہ" قرار دیا۔


پاکستان نے ابدالی میزائل کا تجربہ  کینہ پرور دشمن نریندر مودی کی کسی مہم جوئی کی صورت مین اپنے دفاع کو بہر صورت یقینی بنانے کے لئے کیا اور یہ کسی طرح کی اشتعال انگیزی  نہیں بلکہ نریندر مودی کی اشتعال انگیز حرکتوں کا ہی جواب تھا۔ پاکستان نے ہفتے کے روز 450 کلومیٹر تک مار کرنے والے اپنے زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔ ابدالی ویپن سسٹم کے نام سے جانے والے اس میزائل کا تجربہ اس کی فوجی مشق "مشق سندھ" کے حصے کے طور پر کیا گیا۔

سونمیانی رینجز میں کیا گیا یہ تجربہ ممکنہ طور پر آرمی سٹریٹجک فورسز کمانڈ (ASFC) کے تحت کیے گئے آپریشنل یوزر ٹرائل کا حصہ تھا، جو پاکستان کے جوہری صلاحیت کے حامل میزائلوں کو ہینڈل کرتا ہے۔

انڈیا میں ابدالی میزائل تجربہ کو سندھ طاس معاہدہ کی پہلے سے جاری بے ھرمتی کا ایک جواز بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی جس کا اظہار اندین ایکسپریس کے سینئیر ترین جرنلسٹوں کی لکھی ہوئی کہانی سے ہوتا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مینیجنگ ایڈیٹر نے نریندر مودی کا کیس بناتے ہوئے  نئی دہلی کے سرکاری اہلکار کے حوالے سے مزید لکھا،  ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سے، پاکستان نے بحری انتباہات جاری کیے ہیں، بحیرہ عرب میں مشقیں تیز کی ہیں، اور ایل او سی کے ساتھ مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے"۔

اندیا کی مرکزی حکومت کے اہلکار نے کہا، "اس طرح کے غیر مستحکم حالات میں، یہ منصوبہ بند میزائل تجربہ، ایک صریح اشتعال انگیزی اور بھارت کے ساتھ کشیدگی کو ختم کرنے کی مایوس کن کوشش سے کم نہیں ہے۔"

بھارت کے اشتعال انگیز جنگی اقدامات کا "دوسرا سیٹ"

پی ویدیا ناتھن آئیر  اور سینئیر ڈپلومیٹک رپورٹر  شبھاجیت رائے کی رپورٹ کے مطابق اپنے اقدامات کے دوسرے سیٹ کی نقاب کشائی کرتے ہوئے، ہندوستان نے ہفتہ کو پاکستان سے ہوائی اور زمینی  راستوں کے ذریعے میل اور پارسل کے تمام زمروں کے تبادلے کو بھی معطل کردیا۔

پوسٹل سروس  کو معطل کرنے کا حکم محکمہ ڈاک نے جاری کیا جو وزارت مواصلات کے تحت کام کرتا ہے۔

بھارت کا اگلا اقدام، گھنٹوں بعد، ملک کی بندرگاہوں پر پاکستان کے جھنڈے والے بحری جہازوں کی ڈاکنگ پر پابندی لگانا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی پرچم والا کوئی جہاز پاکستان کی کسی بندرگاہ کا رخ نہیں کرے گا۔

نریندر مودی کے یکطرفہ اشتعال انگیز اقدامات کے پہلے سیٹ میں سندھ طاس معاہدے کو نشانہ بنایا گیا،انڈیا مین موجود پاکستانیوں کے  تمام ویزے منسوخ کیے گئے، تمام پاکستانی شہریوں کو واپس بھیج دیا گیا (سوائے طویل مدتی ویزوں کے)، پاکستانی ہائی کمیشن کے سٹاف  کو تقریباً نصف تک کم کر دیا، اٹاری بارڈر کو بند کر دیا، اور پاک مشن میں کام کرنے والے دو سینئیر  دفاعی اہلکاروں کو واپس بھیج دیا۔ بھارت نے پاکستان ٹی وی اور صحافیوں کے سینکڑوں یوٹیوب چینلز پر بھی پابندی لگا دی تھی۔

ان اشتعال انگیز اقدامات کا پاکستان نے  کیٹیگوریکلی جواب دیا، سفارتکاروں کے بدلے سفارتکار نکالے، ویزے منسوخ کرنے کے جواب میں ویزے منسوخ کئے اور اس کے ساتھ پاکستان نے بھارت کی ایئر لائنز کے لیے اپنی اپنی فضائی حدود  بند کر دی ہیں اور بھارت کے ساتھ تمام تجارت بشمول تیسرے ممالک کے ذریعے اس ہفتے معطل کر دی ہے۔

مودی کی اضافی گیدڑ بھبکی
اعلیٰ دفاعی افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے اس ہفتے کے اوائل میں زور دے کر کہا تھا کہ مسلح افواج کو ہندوستان کے ردعمل کے طریقہ، اہداف اور وقت کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے "مکمل آپریشنل آزادی" حاصل ہے۔

پاکستان کی سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی پر وارننگ

پاکستان کی حکومت اور عسکری قیادت اعلی ترین سطح پر سٹریٹیجنک مشاورت کے بعد اپنا قومی مؤقف واضح کر چکی ہے کہ انڈس ریور سسٹم ٹریٹی / سندھ طاس معاہدہ کی وائلیشن اور پاکستان کے ملکیتی تین دریاؤں کا پانی روکنے کی کسی کوشش کو بھارت کا جنگ کا اقدام تصور کیا جائے گا۔ 

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی لے لیڈر بلاول بھتو زرداری نے جو اپنی نرم خوئی اور معتدل طرزِ کلام کے لئے مشہور ہیں، بہت کھلے لفظوں مین نریندر مودی کو نام لے کر وارننگ دی کی سندھ دریا کا پانی روکا گیا تو  اس کا جواب دیا جائے گا، بلاول نے کہا، "دریا مین پانی نہیں بہا تو "ان کا" خون بہے گا"


بلہیار ڈیم میں چناب کا پانی روکے جانے کے آغاز کی خبر فائل کرنے والے صحافی پی ویدیا ناتھن آئیر انڈین ایکسپریس کے منیجنگ ایڈیٹر ہیں، اور ملک بھر میں اخبار کی رپورٹنگ کی قیادت کرتے ہیں۔ وہ ہندوستان کی سیاسی معیشت پر لکھتے ہیں، اور صحافیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں جن میں کاروبار اور سیاست آپس میں ملتے ہیں۔

شوبھاجیت رائے
شوبھاجیت رائے، دی انڈین ایکسپریس کے ڈپلومیٹک ایڈیٹر، اب 25 سال سے زیادہ عرصے سے صحافی ہیں۔