ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انڈیا نے پاکستانی دریاؤں پر تین ڈیم بنا کر سندھ طاس معاہدہ کی دھجیاں اڑائیں، پاکستانی ذمہ داروں کا آخر کار اعتراف

Indus Water Treaty, City42, Indus Water Commission
کیپشن: بھارت نے اندس واٹر ٹریٹی کی سنگین ترین وائلیشن کر کے ہمارے دریاؤں پر تین ڈیم بنائے، ہمارے متعلقہ ماہر ان وائلیشنز پر صرف لیکچر بگھارتے رہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   انڈس واٹر کمیشن نے بھارت کی اب تک کی سندھ طاس معاہدہ کی تمام خلاف ورزیوں کی فہرست تفصیلات کے ساتھ  وفاقی حکومت کو فراہم کر دی۔

انڈس واٹر کمیشن نے اعتراف کیا ہے کہ  بھارت کے پاکستان کے ملکیتی دریاؤں پر تعمیر کئے گئے  3 ڈیموں کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔  بھارت نے 2005 میں بگلیہار ڈیم، 2010 میں کشن گنگا ڈیم اور 2016 میں رتلے ڈیم تعمیر پر معاہدے کو نظر انداز کیا۔

بھارت نے تینوں ڈیموں کی تعمیر  کی تو پاکستان کا اندس واٹر کمیشن اس کو نہیں روک سکا بلکہ بھارت کی الٹی سیدھی دلیلوں کو انٹرنیشنل فورم پر جھوٹا دکھانے مین ہر بار ناکام رہا۔ اب اندس واٹر کمیشن کے عہدیدار   پاکستانی میڈیا کے نمائندوں کو بتاتے ہین  کہ"  تینوں ڈیموں کے کیس میں بھارت کو ہر بار سبکی اٹھانا پڑ ی تھی" بھارت اب پہلگام واقعے کی آڑ لیکر سندھ طاس معاہدے کو ہی معطل کر چکا ہے اور پاکستان انڈیا کی وائلیشن کو لے کر ایک بار پھر انٹرنیشنل سطح پر  اپنا کیس لے جانا چاہتا ہے جس کے لئے انڈس واٹر کمیشن کے عہدیداروں سے تفصیلات مانگی گئیں۔

عالمی ثالثی قوانین کے مطابق یکطرفہ طور پر انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی ممکن نہیں ہے اور پاکستان پانی کی  کمی بیشی سے نقصان کو لے کر ہرجانہ کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

 22 اپریل کو پہلگام واقعہ کے بعد انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ اپنی دانست میں معطل کر کے پہلے جہلم اور پھر چناب میں  بلا اطلاع پانی چھوڑا۔ اس دوران پاکستان کے اندس واٹر کمیشن کے نام سے بنے ادارہ کے ماہرین یہ کر رہے ہیں کہ خود ان کے الفاظ میں انہوں نے  بھارت سے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی ٹھوس وجوہات جاننے کے لیے نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا "ابتدائی ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے۔"