سٹی42: سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بنچ کے جج جسٹس جمال مندوؤخیل نے قرار دیا ہے کہ مجرم کو سزا تو ہونی چاہیے ٹرائل یہاں ہو یا وہاں ہو کیا فرق ہے۔ مسٹر جسٹس جمال مندوخیل نے یہ ریمارکس سویلین کا ملٹری ٹرائل کیس میں انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کے دوران دیئے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں ملٹری تنصیبات پر حملہ آور ہونے والے "سویلین" کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلانے کے خلاف مشہور مقدمہ کی سماعت آج بھی ہوئی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جرم کسی نے بھی کیا ہو سزا تو ہونی چاہیے، ٹرائل یہاں ہو یا وہاں ہو؛ کیا فرق پڑتا ہے۔
سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں ملٹری تنصیبات پر حملہ آور ہونے والے "سویلین" کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلانے کے خلاف کیس میں انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیے۔
سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ ملٹری کورٹ سے کتنے لوگ رہا ہوئے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا 105 ملزم تھے جن میں سے 20 ملزم رہا ہوئے۔ جب کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 20 کے بعد 19 مزید رہا ہوئے اور اس وقت جیلوں میں 66 ملزم ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ جرم کسی نے بھی کیا ہو سزا تو ہونی چاہیے، ٹرائل یہاں ہو یا وہاں ہو کیا فرق پڑتا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا ٹرائل میں" زمین آسمان کا فرق" ہے،فیصل صدیقی نےکوئی آئینی قانونی جواز پیش کئے بغیر اور کسی مقدمہ کی نظیر پیش کئے بغیر دعویٰ کیا، کہ سویلین کورٹ میں ہونے والا ٹرائل" آزاد "ہوتا ہے دوسرا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہے۔ ٹرم "آزاد" کے ساتھ وابستہ "جذباتی نوشن" کے سوا اس کا قانونی زبان میں فیصل صدیقی کی دلیل کا کوئی معنی نہیں تاہم آج وکیل فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہوگئے جس کے بعد سابقہ سپریم کورٹ بار عہدیداران کے وکیل عابدزبیری دلائل دیں گے۔
آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سیویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔