ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سموگ کیس: لاہور ہائیکورٹ کا ماحول دوست منصوبوں اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کا حکم

سموگ کیس: لاہور ہائیکورٹ کا ماحول دوست منصوبوں اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دینے اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔

 عدالت نے پیراگون سوسائٹی کے عقب میں کچرا جلانے کا سلسلہ فوری طور پر روکنے، محکمہ ماحولیات کی ٹیمیں مستقل بنیادوں پر تعینات کرنے اور زمین کی ملکیت سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک اور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت ممبر ماحولیاتی کمیشن کی جانب سے قصور میں 14 درختوں کی کٹائی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ترقیاتی منصوبوں کے دوران درختوں کی کٹائی سے حتی الامکان گریز کیا جائے اور ایسے متبادل منصوبے ترتیب دیے جائیں جن سے درخت محفوظ رہ سکیں۔ جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ترقیاتی سرگرمیوں میں ماحولیات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

عدالت نے واضح کیا کہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے والی شوگر ملز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ضرورت پڑنے پر ایسی ملز کو سیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے شوگر ملز کو ماحولیاتی ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا۔

سماعت کے دوران پیراگون سوسائٹی کے عقب میں کچرا جلانے اور اس سے پیدا ہونے والی آلودگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ عدالت نے محکمہ ماحولیات کو ہدایت کی کہ اپنی ٹیمیں مستقل بنیادوں پر موقع پر تعینات کرے تاکہ کچرا جلانے کا عمل فوری طور پر روکا جا سکے۔

عدالت نے زمین کی ملکیت اور حدود کے تعین کے لیے ریونیو حکام کو بھی شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے پٹواری اور تحصیلدار کو آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ پنجاب حکومت کے لاء آفیسر کو بھی ریونیو حکام سے رابطہ کرکے زمین کی ملکیت اور دائرہ اختیار سے متعلق مکمل رپورٹ مرتب کرنے کا حکم دیا گیا۔

سماعت کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز اور سیکرٹری ماحولیاتی کمیشن فرحان سعید شیخ بھی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پنجاب حکومت، وفاقی حکومت، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے)، ٹریفک پولیس، واسا اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔

عدالت نے محکمہ ماحولیات اور ریونیو حکام سے خصوصی رپورٹس طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 8 جون تک ملتوی کر دی اور تمام متعلقہ اداروں کو عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔