ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پی ٹی آئی کا وزیر اعلیٰ ایک بار پھر ریاست کی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہو گیا

Ali Amin Gandapur, Pakistan's counter terrorism policy, city42, Khawaraji Terrorism
کیپشن: علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس  کے دوران صرف غیر قانونی افغانوں کو ہی افغانستان واپس بھیجنے سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے ریاست کی دہشتگردی کے مقابلہ کے لئے تمام پالیسیوں کو ہی غلط قرار دیا، ہر مسئلہ کا حل افغانستان میں امن ہونے کو قرار دیا، افغانستان میں امن قائم کرنا پاکستان کے لئے تو کیا کسی بھی ملک کے لئے ایک "ٹرک کی بتی" جیسا ناقابل حصول ٹارگٹ ہے۔ علی امین نے اس پر ہی بس نہیں کیا، انہوں نے دہشتگردی کو ایک تو ہماری ""غلط پالیسیو ں کا پھل قرار دیا، دوسرے انہوں نے کہا کہ چونکہ غزوہ ہند پاکستان سے ہی ہو گا، اس لئے یہاں دہشتگردی بھی ہے۔  گویا علی امین گنداپور کو یقین ہے کہ دہشتگردی پاکستان کا مقدر ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پی ٹی آئی کا وزیر اعلیٰ ایک بار پھر ریاست کی  اچھی طرح ڈسکس کر کے بنائی ہوئی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہو گیا۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ نے  غیر قانونی افغانوں کو نکالنے  کے عمل میں معاونت کرنے سے انکار کر دیا۔ 

خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبے سے  غیر قانونی افغانوں کو نہ نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں ملک میں جاری دہشت گردی کا واحد حل مذاکرات ہیں۔

اڈیالہ جیل مین کرپشن کیس کی سزا کاٹ رہے اپنے بانی سے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی کہتے ہیں ملک میں جاری دہشت گردی کا واحد حل مذاکرات ہیں۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی اس ہی دو رخی پالیسی کے نتیجہ میں صوبہ میں دور افتادی سرحدی علاقوں سے بڑھ کر مرکزی شہروں تک پھیل گئے ہیں اور اب یہ بات ہر خاص و عام کی زبان پر ہے کہ خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں شام ہوتے ہی پی ٹی آئی حکومت ختم ہو جاتی ہے اور دہشتگردوں کا راج شروع ہو جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اسلام آباد میں اپنی پریس کانفرنس میں ڈھٹائی کے ساتھ کہا،  جب ہماری حکومت تھی اس وقت دہشت گردی نہیں تھی، جب ہماری حکومت ختم کی گئی اس کے بعد ہمارے خلاف کارروائیاں شروع کی گئیں اور یہ لوگ ہمارے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہے اور اصل کام پر ان کی توجہ نہیں رہی۔ خیبر پختونخوا میں گزشتہ دس سال سے زیادہ عرصہ سے صرف پی ٹی آئی کی ہی حکومت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوئی۔ پی ٹی آئی کے نقادین کہتے ہیں کہ عمران خان کی اسلام آباد مین حکومت کے دوران ان کی ہدایت پر افغانستان میں چھپ کر رہنے والے ہزاروں دہشتگردوں کو معافی دے کر پاکستان واپس لا کر خیبر پختونخوا میں آباد کیا گیا تھا۔  اس پالیسی کے نتیجہ میں ہی دہشتگردوں نے افغانستان کو بیس بنا کر خیبر پختونخوا مین دہشتگردی کا بازار گرم کیا اور اب خیبر پختونخوا میں ان کی سرگرمیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ افغانستان سے افغان شہریوں کو لا کر پاکستان کے عسکری اداروں پر حملے کروائے جاتے ہیں۔ بنوں کینٹ پر حملے میں مارے جانے والے دہشتگردوں میں سے پانچ دہشتگرد افغان شہری نکلے تھے۔

۔

ریاست "ٹرمز آف ریفرنس" بنائے تاکہ گنڈاپور افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرے

وزیراعلیٰ گنڈاپور نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں 'ٹی او آرز' بنائیں تاکہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیے جاسکیں، اس کے بغیر کوئی حل نہیں ہے۔

ہم میں کیپیسٹی کی کمی ہے، ذمہ دار وفاقی حکومت ہے

علی امین گنڈاپور نے دہشتگردوں کو روکنے میں اپنی صوبائی حکومت کی ناکامی کا ملبہ بھی وفاقی حکومت پر ہی ڈال کر کہا، ہم میں  کپیسٹی کی کمی ہے اور اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔

ہمارے علاقے میں "واقعات" پر سیاست نہ کریں

علی امین گنڈا پور نے اپنی حکومت کی بد ترین ناکامیوں پر تنقید کو "سیاست قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ "ہر چیز میں سیاست نہ کی جائے، افسوس ہے وفاقی حکومت اور وزرا ہمارے علاقے میں واقعات پر سیاست کررہے ہیں۔

گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام اداروں نے ایکشن کیا، جب سے ہماری حکومت آئی ہے سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کو 30 ارب روپے دیے ہیں، صوبائی حکومت کا ایکشن پلان جاری ہے۔

پاکستان میں امن ؟ افغانستان میں امن قائم کروائیں

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عوام اپنے فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں، وفاقی حکومت کے بیانات خطرناک ہیں، افغانستان میں جب تک امن نہیں ہوگا اس پورے خطے میں امن نہیں ہوسکتا۔

خارجی دہشتگرد غلط  نہیں بلکہ ہماری پالیسیاں غلط ہیں

گنڈاپور نے خارجی  دہشتگردوں کے سنگین جرائم کا دفاع کرتے ہوئے ان کی دہشتگردی کا ذمہ دار بھی ہم کو ٹھہرایا اور الزام لگایا کہ ہماری پالیسیاں غلط ہیں، ہماری پالیسیوں کی وجہ سے ان لوگوں  (خارجی دہشتگردوں)نے ہتھیار اٹھایا ہے۔ گنڈاپور نے کہا، (خارجی دہشتگردوں کے ساتھ) اعتماد کا رشتہ بنانا پڑے گا، جب تک افغانستان اور بارڈر ایریاز میں امن نہیں ہوتا حالات ٹھیک نہیں ہوگا۔

ریاست کی پالیسی مستردکردی

علی امین گنڈاپور نے ریاست کی غیر قانونی افغانوں کو پاکستان سے نکالنے کی طے شدہ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا،  کے پی میں ہم زبردستی لوگوں کو افغانستان سے نہیں بھجوائیں گے، صوبے کی پولیس اور صوبے کی انتظامیہ کسی کو بھی زبردستی نہیں نکالے گی۔ ہم کیمپ لگائیں گے جو رضاکارانہ طور پر جانا چاہیں ان کو افغانستان بھجوائیں گے۔

میں "نکلوں گا"

علی امین گنڈاپور نے ایک بار پھر "نکلوں گا" کا نعرہ بھی لگا دیا۔  گنڈاپور نے کہا کہ این ایف سی نہ دینا 58لاکھ آبادی کے ساتھ زیادتی ہے، میرے ساتھ اپریل میں این ایف سی بلانے کا وعدہ کیا گیا تھا، اپریل کا مطلب اپریل ہے، آئینی حق کے لیے میں نکلوں گا۔

گنڈاپور نے دھمکی دی، میں پورے صوبے، پولیس اور سرکاری ملازمین کو لے کر نکلوں گا، ہمیں 75ارب روپے نہیں دیا گیا ۔ یہ بجلی کے ڈیٹ کے علاوہ ہے، ہم پاکستان کا حصہ ہیں ہمیں یہ دیا جائے۔

علی امین گنڈاپور کا فلسفہِ دہشتگردی

پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پاکستان کو کینسر کی طرح لاحق دہشتگردی کا انوکھا جواز یہ پیش کیا کہ دہشت گردی پاکستان میں اس لیے ہے کہ یہ اسلامی ملک ہے، جہاں سے غزوہ ہند ہونی ہے وہ یہی خطہ ہے، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ ہوا جس میں لکھا ہے اس خطے میں معدنیات ہیں اور اس کے بعد سے یہاں دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات دو دو مہینے بعد کیوں ہوئی، عمران خان ڈیل نہیں کرے گا، وہ کسی ڈیل کیلئے جیل میں نہیں ہے، مذاکرات پاکستان کے لیے ہوں گے، اگر کوئی راستہ نکلتا ہے تو مذاکرات ہونے چاہئیں۔