(ایس ایم عتیق شاہ بخاری) بھارت اور پاکستان کی پریس فریڈم کے حوالے سے حالت ایک جیسی ہے ، جنوبی ایشیا میں صحافیوں کے لیے حالات بتدریج خراب ہو رہے ہیں۔ ’ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026‘ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی رواں سال کی درجہ بندی میں گراوٹ آئی ہے اور 180 ممالک میں بھارت کا 157 نمبر اور پاکستان کا 158 ہے۔ پریس فریڈم انڈیکس میں دونوں ممالک سے بہتر پوزیشن میں بنگلہ دیش اور سری لنکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ’رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ نے حال ہی میں ’ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026‘ جاری کیا ہے، جو کہ اس انڈیکس کا 25واں ایڈیشن ہے۔ اس انڈیکس میں شامل کل 180 ممالک میں بھارت 157 ویں نمبر پر ہے۔ سال 2025 کے مقابلے میں بھارت 6 درجے نیچے گرا ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ 151 ویں مقام پر تھا۔ ہندوستان کا انڈیکس اسکور 31.96 ہے، جو کہ عالمی اوسط اور ایشیا کے اوسط اسکور سے بہت پیچھے ہے۔اسطرح پاکستان میں آزادی صحافت میں کمی ہوئی ہے اور 2025 میں یہ 152ویں درجے سے گر کر 158ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔ پاکستان بھی بھارت کی طرح 6 درجے نیچے گرا ہے۔ پریس فریڈم انڈیکس میں ہم سے بہتر پوزیشن میں بنگلہ دیش اور سری لنکا ہے۔ ہمارے پڑوسی ممالک میں نیپال 87 ویں نمبر پر ہے، مالدیپ 108 ویں، سری لنکا 134 ویں، بھوٹان 150 ویں، بنگلہ دیش 152 ویں، میانمار 166 ویں، افغانستان 175 ویں اور چین 178 ویں نمبر پر ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہے پاک بھارت میڈیا کو اقتدار نہیں کچلتا بلکہ میڈیا اقتدار کے ساتھ ملکر عوام کا استحصال کرتا ہے اور اسے ہی جمہوریت قرار دیتا ہے۔ جب کبھی بھی غیر جانبدار تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں آج کے دور کے میڈیا کے ہاتھ سب سے زیادہ خون سے رنگے ہوں گے۔ اس میڈیا نے خبروں کو ایک تماشے میں بدل دیا ہے اور جھوٹ کی ایک دنیا بسا دی ہے۔دونوں ممالک میں خبروں کا مقابلہ نہیں ہے بلکہ اقتدار کی خوشامد حاصل کرکے مالی فوائد حاصل کرنے کا مقابلہ ہے۔
سال 2014 کے بعد سے میڈیا کی کیا صورتحال ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ پریس فریڈم انڈیکس میں ہم سے بہتر پوزیشن میں بنگلہ دیش اور سری لنکا ہے۔ سال 2025 کے مقابلے میں بھارت اور ہاکستان 6 درجے نیچے گر گئے، جبکہ خطے کے دوسرے ممالک میں نیپال 87 ویں نمبر پر ہے، مالدیپ 108 ویں، سری لنکا 134 ویں، بھوٹان 150 ویں، بنگلہ دیش 152 ویں پر ہیں ۔ اس کے علاوہ میانمار 166 ویں، افغانستان 175 ویں اور چین 178 ویں نمبر پر ہیں اور ان ممالک میں سٹیٹ میڈیا کنٹرول کرتا ہے۔
ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس ہر سال 'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز' کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم درجہ بندی ہے، جو 180 ممالک میں صحافت کی آزادی کی صورتحال، صحافیوں کے تحفظ، اور میڈیا کے لیے سازگار ماحول کا اندازہ لگاتا ہے’رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ کے مطابق عالمی سطح پر عوامی مقبولیت پسند انتہا پسند دائیں بازو کی آمرانہ حکومتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد سے صحافتی آزادی میں تیزی سے گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ اس کی وجوہات سیاسی مداخلت، جابرانہ آمریت اور میڈیا پر سرمایہ داری کا غلبہ ہے۔ سال 2026 میں انڈیکس کا اوسط اسکور گزشتہ 25 برسوں میں سب سے کم رہا ہے۔ میڈیا کی آزادی کے معاملے میں روایتی طور پر یورپ سب سے آگے رہا ہے، لیکن اب وہاں بھی یہ آزادی خطرے میں ہے۔مجموعی طور پر 180 ممالک میں سے 100 سے زائد ممالک میں صحافتی آزادی میں تنزلی دیکھی گئی ہے۔
پریس فریڈم کی صورتحال یہ ہے کہ سال 2002 میں دنیا کی 20 فیصد آبادی میڈیا کی آزادی والے ممالک میں مقیم تھی، جو سال 2026 میں سمٹ کر محض 1 فیصد رہ گئی ہے۔ دنیا کے 50 فیصد سے زائد ممالک میں اس آزادی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ سال 2026 کے انڈیکس میں سب سے تیز گراوٹ نائیجر میں دیکھی گئی ہے، جو ایک ہی سال میں 37 درجے نیچے گر کر 120 ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ دوسری طرف مسلسل خانہ جنگی اور غربت کی زد میں رہنے والا ملک شام ہے جس نے اس انڈیکس میں 36 درجوں کی چھلانگ لگائی ہے اور اب 141 ویں نمبر پر ہے۔اس انڈیکس میں 92.72 پوائنٹس کے ساتھ ناروے پہلے نمبر پر ہے، اس کے بعد بالترتیب نیدرلینڈز، ایسٹونیا، ڈنمارک، سویڈن، فن لینڈ، آئرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، لکزمبرگ اور پرتگال ہیں۔ انڈیکس میں سب سے آخری نمبر پر اریٹیریا ہے، اس سے پہلے شمالی کوریا، چین، ایران اور سعودی عرب ہیں۔
دنیا کے اہم ممالک میں جرمنی 14 ویں، برطانیہ 18 ویں، کینیڈا 20 ویں، جنوبی افریقہ 21 ویں، فرانس 25 ویں، آسٹریلیا 33 ویں، جنوبی کوریا 47 ویں، برازیل 52 ویں، اٹلی 56 ویں، جاپان 62 ویں، امریکہ 64 ویں، ارجنٹائن 98 ویں، فلپائن 114 ویں، میکسیکو 122 ویں، انڈونیشیا 129 ویں اور روس 172 ویں نمبر پر ہے۔ جبکہ جنگ زدہ ملک یوکرین اس انڈیکس میں 55 ویں مقام پر ہے۔ انڈیکس میں ہنگری 74 ویں نمبر پر ہے، مسلسل آمرانہ اقتدار کی زد میں رہنے والے اورسر عام غیر جانبدارانہ صحافت کا استحصال کرنیوالے ملک ہنگری کی صورتحال پاکستان اور بھارت سے بہت بہتر ہے۔فہرست میں اسرائیل و امریکہ کی مار جھیلنے والے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی صحافتی آزادی بھارت اور پاکستان سے بہتر ہے۔ اس خطے میں لبنان 115 ویں، اسرائیل 116 ویں، کویت 136 ویں، لیبیا 138 ویں، شام 141 ویں، اردن 142 ویں، فلسطین 155 ویں، متحدہ عرب امارات 156 ویں نمبر پر ہیں۔
اس کے علاوہ عراق 162 ویں، مصر 169 ویں، سعودی عرب 176 ویں اور ایران 177 ویں نمبر پر ہے، جبکہ میانمار 166 ویں، افغانستان 175 ویں اور چین 178 ویں نمبر پر ہیں اور ان ممالک میں سٹیٹ میڈیا کنٹرول کرتا ہے۔