راؤ دلشاد: حکومت پنجاب نےکابینہ کمیٹی برائے لاء اینڈ آڈرکومزید بااختیار کردیا،کابینہ کمیٹی لاء اینڈ آرڈر کے اختیارات میں اضافےکیساتھ توسیع بھی کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق کابینہ کمیٹی لا اینڈ آرڈر اب جیل ٹرائل کے امور پر بھی فیصلہ کرسکے گی،کابینہ کمیٹی لا اینڈ آرڈرکو اب پراسیکیویشن سےمتعلق بھی اختیارات مل گئے،کیبنٹ کمیٹی لا اینڈ آرڈر میں اب وزیر قانون کو بھی شامل کرلیا گیا،پنجاب کابینہ کی قانون و انصاف کی سٹینڈنگ کمیٹی کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق قانون و انصاف کمیٹی کے چیئرمین مقرر کئے گئے،کابینہ کمیٹی میں مجتبیٰ شجاع الرحمان ، چودھری شافع حسین، بلال اکبر خان شامل ہیں،کمیٹی کامقصد پنجاب بھر میں قانون و امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینا ہے،دہشت گردی کے متاثرین کومعاوضہ دینے کی منظوری کمیٹی کی ذمہ داری ہے،قانون نافذ کرنے کیلئے جے آئی ٹیز کی منظوری کا اختیار بھی کمیٹی کو حاصل ہے۔
ایمرجنسی سکیورٹی اخراجات کی منظوری اب قانون و انصاف کمیٹی دے گی،میڈیا مہمات کی منظوری بھی قانون و انصاف کمیٹی کی صوابدید پرہوگی،اہم تقریبات و سکیورٹی انتظامات پرکمیٹی تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے گی،قیدیوں کی مشروط رہائی کے مقدمات کی منظوری دی جاسکے گی،پولیس سرکلز اور پولیس پوسٹوں کی حدود میں تبدیلی کی منظوری دے دی۔
کمیٹی ماہرین کو معاونت کیلئےبلا سکتی ہے مگر انہیں ووٹنگ کا حق حاصل نہیں ہوگا،خصوصی پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو اختیارات دینے کی منظوری دی جاسکے گی،دھماکہ خیز مواد ایکٹ کےتحت مقدمات پرپراسیکیوشن کی منظوری دی جاسکتی ہے،اے ٹی سی ایکٹ 1997 کے تحت جیل ٹرائل کی منظوری کا اختیار حاصل ہوگا،دیگر مقدمات کےجیل ٹرائل کی بھی منظوری دینےکااختیار بھی کابینہ کمیٹی کو حاصل ہوگا۔
تمام صوبائی وزرا، سیکرٹریز ،کمشنرز کو کابینہ کمیٹی لاء اینڈ آرڈر کی تشکیل نو کی کاپی ارسال کر دی گئی۔