ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کلبھوشن کی گرفتاری کے 9 سال، پاکستانی سیکورٹی فورسز کی کامیابی

کلبھوشن کی گرفتاری کے 9 سال، پاکستانی سیکورٹی فورسز کی کامیابی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے حاضر ڈیوٹی افسر کو بلوچستان سے تین مارچ 2016 کو گرفتار کیا

بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے رنگے ہاتھوں گرفتاری کو نو سال مکمل ہوگئے، اس کارروائی کو پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تاریخی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تین مارچ 2016 کو بھارتی خفیہ ایجنسی کے افسر کلبھوشن کو بلوچستان سے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔بھارت طویل عرصے سے دوسرے ممالک میں ریاستی دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، اور اس کی واضح مثال 3 مارچ 2016 کو کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی صورت میں دنیا کے سامنے آئی۔پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنی غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے رنگے ہاتھوں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان سے گرفتار کیا، جب وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف تھا۔  

یہ پہلا موقع تھا جب کسی ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کا حاضر سروس افسر کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ یہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بے مثال مہارت کا ثبوت ہے، جس نے بھارت کے ناپاک عزائم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔حقیقت یہ ہے کہ بھارتی جاسوسوں کی نام نہاد "پیشہ ورانہ مہارت" صرف بالی وڈ کی فلموں تک محدود ہے۔کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس کے پورے دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا، جو معصوم پاکستانیوں کی جانوں کے درپے تھا۔دورانِ تفتیش، کلبھوشن نے تسلیم کیا کہ وہ بھارتی حکومت اور را کے احکامات پر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہا تھا۔  یہ تاریخی کامیابی، جو پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے حاصل کی، اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے۔ اس کامیاب انسدادِ دہشت گردی آپریشن کو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔