وسیم عظمت: عید کے دن گرم ترین دن ہوں گے تاہم شکر ہے کہ "عید کا پہلا دن ہیٹ ویو کا پہلا دن نہیں ہو گا"۔ سٹی42 کی یہ پرائیویٹ فورکاسٹ حرف بحرف پوری ہو رہی ہے اور آج
میٹیرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے بھی "ہیٹ ویو الرٹ" جاری کر دیا ہے۔
میٹ ڈیپارٹمنٹ کے ہیٹ ویو الرٹ میں آج تسلیم کیا گیا ہے کہ ہیٹ ویو تو 7 جون کو آ جائے گی لیکن ملک کے بیشتر علاقوں کو یہ 8 جون کو یعنی عید کے دوسرے دن متاثر کرے گی۔ میٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس اہم الرٹ میں لاہور کا خاص طور سے ذکر نہیں کیا تاہم سٹی42 اپنی 3 جون کی فورکاسٹ کو دہراتے ہوئے بتا رہا ہے کہ پرسوں عید کے دن 7 جون کو گرمی ہو گی لیکن بہرحال کم۔ لاہور میں عید کا دوسرا دن شدید گرمی کی ابتدا کا دن ہو گا۔
میٹ ڈیپارٹمنٹ کا آج کا ہیٹ ویو الرٹ
میٹ ڈیپارٹمنٹ نے آج بتایا ہے کہ شدید گرمی کی لہر عید کی چھٹیوں اور آئندہ ہفتے کے دوران متوقع ہے۔
7 جون سے ملک میں شدید موسمی دباؤ قائم ہونے کا امکان ہے جو 8 جون سے ملک کے بیشتر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
میٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ہیٹ ویو ملک کے بیشتر حصوں کو متاثر کرے گی تاہم سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب شامل ہیں۔ وسطی پنجاب، شمالی پنجاب، کشمیر، غلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقے اس ہیٹ ویو سے کچھ زیادہ متاثر ہوں گے۔
تین جون کو سٹی42 کی فورکاسٹ
لاہور میں آج 3 جون کی شام کشمیر جیسی شام ہے۔ آسمان بادلوں سے گھِرا ہوا ہے لیکن بارش نہیں برس رہی، بریز چل رہی ہے اور کسی طرح بھی محسوس نہیں ہوتا کہ اپریل اور مئی کی بے تحاشا گرم شاموں کے بعد یہ جون کے پہلے ہفتے کی ایک شام ہے۔
موسم کے سرکاری لال بھجکڑوں نے کل شب "پیش گوئی" کی تھی کہ کل شب سے 5 جون تک آندھیاں چلیں گی۔ ممکن ہے یہ آندھیاں آئیں لیکن کب کہاں آئیں گی یہ لال بھجکڑوں کو خود بھی نہیں پتہ اس لئے وہ ہر ایک کو ڈرا دیتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے آنے والےتھنڈر سٹارمز اور ڈسٹ سٹارمز سے پنجاب میں جانی نقصان ہوا تھا اور لوگ آندھی اور تھنڈر سٹارم کے نام سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں لیکن آج "پیش گوئی" کے بالکل برعکس لاہور میں کشمیر جیسی شام ہے۔
آندھی کب آئے گی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ لاہور میں والی دل خوش کن ہوا کب ڈسٹ سٹارم میں بدل جائے گی، تاہم موسم کے مجموعی تیوروں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آج رات اس کا امکان کم ہے۔ اس کی جگہ بارش کی کچھ بوندیں کسی بھی وقت کسی بھی جگہ گر سکتی ہیں، موسلا دھار جم کر ہونے والی بارش کا آج امکان نہ ہونے جیسا ہے۔

کل بدھ کو کیا ہو گا
ہونا کیا ہے، جو آج ہوا وہی کل بھی ہو گا۔ موسم اچھا ہو گا، زیادہ گرمی نہیں پڑے گی، سورج اپنا چہرہ خوب دکھائے گا البتہ سورج کی کرنوں کی حدت سے ہمیں بچانے کے لئے تھوڑے بہت بادل رہیں گے لیکن ٹمپریچر تب بھی 35 ڈگری تک بڑھ سکتا ہے کیونکہ یہ بہرحال جون ہے۔
کل شب بلکہ جمعرات کی صبح ٹمپریچر گر کر 25 ڈگری یا اس سے بھی کچھ کم ہو سکتا ہے۔
کل بارش کا امکان آج شام ساڑھے سات بجے تک نہ ہونے کے برابر دکھائی دے رہا ہے۔ تیز ہوائیں کہیں سے تھنڈر سٹارم کلاؤڈز کو لے آئیں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن اب تک اس امر کا امکان نہ ہونے جیسا ہی ہے۔
پرسوں جمعرات کو کیا ہو گا
جمعرات نسبتاً گرم دن ہو گا۔ گرمی بڑھ کر 39 ڈگری تک جا سکتی ہے، اس کا انحصار دراصل کل بدھ کے دن کے موسم پر ہی ہو گا۔ اگر بدھ کا دن زیادہ گرم نہ ہوا تو جمعرات کو بھی گرمی بڑھنے کے باوجود 38ْْ سے 39 ڈگری تک ہی رہ سکے گی۔
جمعے کو کیا حال ہو گا
یہ عید الاضحیٰ سے پہلے کا دن ہو گا۔ گرمی جمعرات کی نسبت کچھ بڑھے گی اور ٹمپریچر 41 ڈگری سیلسئیس تک چلا جائے گا۔ اس کا انحصار بہرحال کل بدھ اور پرسوں جمعرات کے ٹمپریچرز پر ہی ہو گا۔ اگر یہ دو دن فورکاسٹ کے مطابق نسبتاً کم گرم رہے تو جمعہ قابل برداشت گرمی کے ساتھ سورج چمکے گا بھی اور معمولی بادل بھی رہیں گے۔
عید کا دن
سب کی خواہش ہے کہ عید کے دن موسم خوشگوار رہے لیکن یہ خواہش بس خواہش ہی رہنے کا امکان ہے کیونکہ عید کا دن جون کے پہلے ہفتے کا آخری دن ہے، گرمی جون میں نہیں ہو گی تو کب ہو گی۔ شکر کرنا چاہئے کہ عہد کا پہلا دن ہیٹ ویو Heatwave کا پہلا دن نہیں ہو گا۔
عید کا دوسرا دن؛ ہیٹ ویو کا پہلا دن
جس ہیٹ ویو سے ہمیں گزشتہ تین ماہ کے تجربوں سے ڈر لگنے لگا ہے وہ عید کے دوسرے دن واپس آ سکتی ہے۔ اتوار 8 جون کو ٹمپریچر شوٹ کر کے 44 ڈگری سیلسئیس ہو سکتا ہے،بادل آسمان سے یکسر غائب ہو سکتے ہیں اور جون کی حشر سامان آمد کا رسمی اعلان ہو سکتا ہے۔
عید کا تیسرا دن ؛ ایک اور گرم دن
عید کا تیسرا دن اور عید کی چھٹیوں کا آخری دن 9 جون 45 ڈگری سینٹی گریڈ کے نزدیک نزدیک آگ برسانے والا دن ہو سکتا ہے۔ اس روز قربانی کا گوشت بانٹنے کے لئے یا عزیز و اقارب کے گھروں پر وزٹ کرنے کے لئے جانا ہو تو سورج کی کرنوں سے بچنے کا انتظام کر کے ہی گھر سے نکلنا عقلمندی ہو گا۔ یہ شدید گرم دن سرف ایک ہی سورت مین ٹل سکتا ہے کہ تب تک کوئی بھولا بھٹکا تھنڈر سٹارم لاہور تک آ جائے اور چند گھنٹے کے لئے ہی سہی ماحول مین تک تک جمع ہو چکی گرمی کو تحلیل کر دے۔ ایسا نہ ہوا تو (جس کا قوی امکان ہے کہ نہین ہو گا) پیر کا روز گرم ترن دن ہو گا۔
شدید گرمی منگل کو برسے گی
منگل کی گرمی پیر والی کو بھلا دے گی۔ منگل 10 جون کو سورج کی تپش عروج پر ہو گی، ٹمپریچر 48 ڈگری کے خطرناک درجہ تک جانے کا خوفناک احتمال ہے۔ لاہور کے رہنے والے اس روز ہیٹ سٹروک اور سن سٹروک سے بچنا چاہتے ہین تو انہیں دوپہر اور سہ پہر کا وقت سایہ دار جگہوں پر ہی گزارنا چاہئے۔

بدھ اور جمعرات؛ ہِیٹ ویو برقرار
آئندہ بدھ 11 مئی اور جمعرات 12 مئی دونوں یکساں گرم دن ہوں گے۔ ہیٹ ویو عروج پر ہو گی اور ٹمپریچر 47 ڈگری تک بڑھ سکتا ہے۔ آئندہ پیر منگل اور بدھ کے تین دنوں کے دوران بچوں کو گرمی سے بچانے کے لئے بڑوں کو خاص احتیاط کرنا پرے گی۔
آج کشمیر جیسی شام لیکن آلودگی لاہور جیسی؛ لہور بہرحال لہور ہے!
تاہم لاہور کشمیر نہیں ہے، یہاں فضا میں بہت آلودگی ہے اس لئے خنک ہونے کے باوجود یہاں فضا آج شام بھی آلودہ ہے۔ گو کہ آلودگی کا لیول آج گزشتہ گرم دنوں کی نسبت نمایاں کم ہے لیکن بہرحال اب بھی ائیر کوالٹی انڈیکس اسے Poor کوالٹی ہی کے زمرہ میں شمار کر رہا ہے۔ ائیر کوالٹی انڈیکس اس وقت 63 ہے جو ہم لاہور کے رہنے والوں کے لئے غنیمت ہے۔
ہوا کا تجزیہ بتانے والی ایک نجی ویب سائٹ کے مطابق لاہور میں آج 3 جون کی شام بھی ہوا آلودگی کی بلند سطح پر ہے اور حساس لوگوں کے لیے غیر صحت بخش ہے۔ اگر آپ کو سانس لینے میں دشواری یا گلے کی جلن جیسی علامات محسوس ہو رہی ہیں تو باہر کم وقت گزاریں۔
لاہور کی فضا میں آلودگی کے زمرہ میں آنے والے ذرات
10 مائیکرو میٹر ذرات: 63 ، 54 µg/m³
لاہور کی فضا میں کچھ ذرات 10 مائیکرو میٹر سے کم قطر کے ہیں جو ساتھ سانس کے ہمارے جسم مین چلے جاتے ہیں اور صحت کے لئے پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔
2.5 مائکرو میٹر ذرات: 61، 18 µg/m³
یہ ذرات ایئر ویز میں جمع ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ان ذرات سے آلودہ فضا میں ایکسپوژر ک ے نتیجے میں ہماری آنکھ اور گلے میں جلن، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری، اور دمہ کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ زیادہ بار بار اور ضرورت سے زیادہ ایکسپوژر کے نتیجے میں صحت پر زیادہ سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
باریک ذرات 2.5 مائیکرو میٹر سے کم قطر کے ساتھ سانس لینے کے قابل آلودگی والے ذرات ہیں جو پھیپھڑوں اور خون میں داخل ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں صحت کے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ شدید اثرات پھیپھڑوں اور دل پر پڑتے ہیں۔ نمائش کے نتیجے میں کھانسی یا سانس لینے میں دشواری، دمہ میں اضافہ، اور سانس کی دائمی بیماری کی نشوونما ہو سکتی ہے۔
لیکن لاہور کے زیادہ مکین ان ذرات کے لئے امیون ہو چکے ہیں۔ نقصان پہنچتا ہے تاہم جسم خود اس نقصان سے بچنے یا اس کے ساتھ گزارا کرنے کی تدبیریں کر لیتا ہے۔
نائیٹروجن ڈائی آکسائیڈ: 29، 14 µg/m³
نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی زیادہ مقدار میں سانس لینے سے سانس کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کھانسی اور سانس لینے میں دشواری عام ہیں اور صحت کے زیادہ سنگین مسائل جیسے سانس کے انفیکشن زیادہ دیر تک رہنے کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ یہ ضرر رساں گیس لاہور کی فضا میں آج شام بھی موجود ہے لیکن کم مقدار میں۔
گراؤنڈ لیول اوزون: 16، 49 µg/m³
لاہور میں آج شام گراؤنڈ لیول اوزون کا درجہ بہترین ہے۔ ہمیں اس سے کوئی خطرہ نہیں۔
زمین کی سطح پر موجود اوزون سانس کی موجودہ بیماریوں کو بڑھا سکتی ہے اور گلے کی جلن، سر درد اور سینے میں درد کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
سلفر ڈائی آکسائیڈ( SO 2): 8، 8 µg/m³
آج لاہور مین سلفر ڈائی آکسائیڈ لا لیول بھی بہترین ہے۔
سلفر ڈائی آکسائیڈ کی نمائش گلے اور آنکھوں میں جلن اور دمہ کے ساتھ ساتھ دائمی برونکائٹس کو بڑھا سکتی ہے۔
کاربن مونو آکسائیڈ (CO): 2، 213 µg/m³
لاہور شہر مین آج کاربن مونو آکسائیڈ کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، اس خطرناک گیس کا لیول اس وقت بہترین ہے۔
کاربن مونو آکسائیڈ ایک بے رنگ اور بو کے بغیر گیس ہے اور جب اس گیس کی زیادہ مقدار کی موجودگی میں سانس لیا جائے تو سر درد، متلی، چکر آنا اور الٹی ہو سکتی ہے۔ بار بار طویل مدتی ایکسپوژر دل کی بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔