(سٹی 42) تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ آج تین ماہ بعد بشری بی بی کی فیملی کو ملاقات کی اجازت مل گئی۔بشری بی بی کی فیملی نے بتایا صرف بشری بی بی سے ملاقات ہوئی بانی سے نہیں ہوئی۔بشری بی بی نے بتایا ہے بانی کی طبیعت ابھی ٹھیک نہیں لیکن پہلے سے قدرے بہتر ہے۔
تفصیلات کے مطابق چئیرمین بیرسٹر گوہر خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس بشری بی بی کے دو پیغام آئے ہیں۔بشری بی بی نے بتایا بانی کی آنکھ میں شدید تکلیف تھی ڈاکٹروں نے تجویز کیا اسکے لئے پمز ہسپتال جانا ضروری ہے۔بشری بی بی نے بتایا ہے بانی کی طبیعت ابھی ٹھیک نہیں لیکن پہلے سے قدرے بہتر ہے۔پارٹی اور وکلاء کیلئے بھی بانی کا پیغام آیا ہے وہ میں پارٹی تک پہنچاوں گا۔ملاقات صرف بشری بی بی سے ہوئی ہے لہذا 8 فروری یا سیاسی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔بشری بی بی نے بتایا ہے بانی کی ٹریٹمنٹ ابھی ہورہی ہے۔بشری بی بی نے بتایا ہے پمز ہسپتال نے ڈاکٹرز نے پروسیجر کیلئے تجویز کیا تھا ورنہ آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔بشری بی بی نے بانی کو ہسپتال لے جانے کی تصدیق کی ہے۔بشری بی بی کے ساتھ فیملی کی ملاقات میں بانی شامل نہیں تھے۔
بیرسٹر گوہر خان نے مزید کہا کہ میری کوئی ملاقات نہیں ہو رہی ملاقاتوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے۔فیملی کی ملاقات ہر صورت ہونی چاہیئے آج فیملی ملی کچھ تسلی ہو گئی۔حکومت ایسی نہیں چلتی آپ کہیں میں حکومت میں ہوں کوئی سیاسی بات نہ کرے۔کہاں لکھا ہوا ہے آپ سیاسی گفتگو نہ کریں۔پہلے کیا جیل میں باقی لیڈرز نہیں تھے۔آج بھی ہم نے کہا دہشتگردی کی مذمت کرو ملک کی یک جہتی کی کوشش کرو۔ایک پارٹی کےلئے ایک قانون اور دوسری کے لئے دوسرا قانون ہے۔جتنا ملاقات کو روکیں گے اتنے مسائل جنم لیں گے۔
تحریک انصاف کے چئیرمین نے کہا کہ چاہے تیراہ ہو،چاہے باجوڑ،چاہے کے پی کا کوئی علاقہ ہو،پنجاب یا بلوچستان ہو ہم کہتے ہیں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرو۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کرو، وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد وزیراعلی کے پی نے کہا کہ ملاقات میں کے پی کے مسائل،دہشتگردی اور ہمارے بقایا جات پر ہوئی۔ترکیہ سے آنے والی آفر ہمارے علم میں نہیں۔بانی نے کہا تھا کہ جینا اور مرنا اس ملک میں ہے۔سب پارٹی لیڈرز کو کہوں گا کہ بانی کی صحت کو آسان نہ لیں۔یہ مشکل وقت ہے ملک اور ہم اس مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں۔سیاسی مسائل کا حل سیاسی طور پر ڈھونڈنا چاہیئے۔
بیرسٹر گوہر خان نے مزید کہا کہ اب اچکزئی صاحب اور علامہ ناصر عباس کو بانی نے اختیار دیا ہے۔وزیراعظم کو آج بھی اچکزئی صاحب نے خط لکھ کر تین ڈاکٹروں کے نام دیئے ہیں۔اب انشاء اللہ تعالیٰ یہ بات چیت آگے چل پڑے گی۔اچکزئی صاحب کی صواب دید ہے کہ وہ کس طرح لیکر آگے چلتے ہیں۔صاحب اقتدار پر زیادہ زمہ داری آتی ہے کہ وہ ملک کو آگے لے جانے کے لئے بڑے دل کا مظاہرہ کریں۔آج فیملی ملی تھی اگر خان صاحب کو بھی مل جاتے تو بات ختم ہو جاتی۔ 24کروڑ عوام سوشل میڈیا پر کیا کچھ نہیں کہتے،لیکن اسکی وجہ سے آپ نارمل حالات کو تو ختم نہیں کرو گے۔خان صاحب کے ساتھ ملاقات کا مطالبہ کریں گے۔بشری بی بی کی ملاقات ہو گئی اور انھوں نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے اس سے کچھ تسلی ہو گئی ہے۔کچھ ہونا نہ ہونے سے بہتر ہے۔