ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت 378 روپے فی لیٹر مقرر کردی

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج رات سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 378 روپے مقرر کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت 378 روپے فی لیٹر مقرر کردی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کردی، وزیر اعظموزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پٹرول کی لیوی میں فوری 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کرتا ہوں، آج رات سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 378 روپے مقرر کی جا رہی ہے۔ میں اور فیلڈ مارشل خلوصِ دل سے جنگ رکوانے کی کوشش کررہے ہیں ، سیاسی و عسکری قیادت نے جنگ بندی کیلئے بھرپور کام کیا، جب تک آگ کے شعلے بجھ نہیں جاتے فرض نبھاتے رہیں گے۔  

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ایک بار پھر مشکل حالات میں آپ سے مخاطب ہوں، میں اچھی طرح جانتا ہوں پاکستان میں ایک عام آدمی ہے کس طرح زندگی بسر کرتا ہے، فجر کی نماز ادا کر کے رزقِ حلال کی تلاش کے لیے نکلتے ہیں اور سارا دن جاڑے میں، دھوپ میں محنت کر کے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ خلیج جنگ کی وجہ سےتیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، عوام کیلئے چیلنجز سامنے آرہےہیں، کوشش کی عوام کو مہنگائی کےطوفان سے بچایا جائے۔ گزشتہ 3ہفتوں میں تیل کی قیمتوں کا بوجھ عام آدمی پر نہیں ڈالا، 129ارب روپے خرچ کرکے عوام تک مہنگائی کا طوفان نہیں پہنچنے دیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں لوگ تکلیف میں مبتلا ہیں پاکستان میں صورتحال بہتر رہی ، موٹرسائیکل کو ایک لیٹر پر 100روپے کی سبسڈی دی جائے گی، گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی 70سے 80ہزار روپے ریلیف دیں گے، مسافر بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ تک سبسڈی دی جائے گی، ریلوے کی کسی بھی کلاس کیلئے کرایہ نہیں بڑھایا جائے گا۔   

شہباز شریف نے کہا کہ ریلوے کی کسی بھی کلاس کیلئے کرایہ نہیں بڑھایا جائے گا، چھوٹے کاشتکاروں کیلئے 1500روپے فی ایکڑ سبسڈی دیں گے ، مال بردار گاڑیوں کو سپورٹ کے لیے 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے سبسڈی دیں گے، چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں نے بھی اپنے وسائل مہیا کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ تمام اعلانات کا اطلاق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر بھی ہوگا، کوشش کی ہے عوام کے بہبود اور مشکلات کم کرنے کے لیےقومی وسائل صرف کئے جائیں۔وفاقی کابینہ کے ارکان چھ ماہ تک تنخواہ نہیں لیں گے۔