طاہر جمیل:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ٹرانسپورٹرز نے سرکاری منظوری کے بغیر ہی نئے کرایے نافذ کرنا شروع کر دیے ہیں۔ مختلف روٹس پر مسافروں سے ایک ہزار سے ڈھائی ہزار روپے تک اضافی کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بین الاضلاعی سفر کے کرایوں میں سب سے زیادہ اضافہ سامنے آیا ہے۔ لاہور سے کراچی کا کرایہ 8600 سے بڑھا کر 12000 روپے کر دیا گیا، جبکہ اسلام آباد کے لیے کرایہ 3000 سے بڑھا کر 4000 روپے وصول کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح پشاور جانے والے مسافروں کے لیے کرایہ 3500 سے بڑھ کر 4600 روپے ہو گیا ہے، جبکہ سرگودھا کا کرایہ 1550 سے بڑھا کر 2550 روپے کر دیا گیا ہے۔
دیگر شہروں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فیصل آباد کا کرایہ 1350 سے بڑھ کر 2350 روپے، رحیم یار خان کا 4250 سے 5300 روپے، جبکہ مری جانے کا کرایہ 3300 سے بڑھا کر 4500 روپے کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ملتان کا کرایہ 2800 سے بڑھ کر 3700 روپے تک پہنچ گیا ہے۔
دوسری جانب حکام نے واضح کیا ہے کہ کرایوں میں تاحال کوئی سرکاری اضافہ نہیں کیا گیا۔ سیکرٹری آر ٹی اے کے مطابق ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور جلد نئی کرایہ فہرست جاری کی جائے گی، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تناسب سے ہی کرایے مقرر کیے جائیں گے۔
مسافروں نے خود ساختہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔