ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سعودی اور عراقی کمپنیوں نے بھارتی کمپنی کو تیل کی سپلائی بند کردی

سعودی اور عراقی کمپنیوں نے بھارتی کمپنی کو تیل کی سپلائی بند کردی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: سعودی اور عراقی کمپنیوں نے بھارتی کمپنی نیارا کو تیل کی سپلائی بند کردی

سفارتی تنہائی اور معاشی مشکلات میں مبتلا بھارت کیلئے ایک اور بڑا دھچکا  ،برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق’’سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے بھارتی کمپنی نیارا انرجی ریفائنری  کو خام تیل کی فراہمی روک دی ہے‘‘

عراق کی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنی سومو (SOMO) نے بھی بھارتی کمپنی نیارا انرجی کو تیل بیچنا بند کر دیا ہے،یہ اقدام یورپی یونین کی طرف سے روسی حمایت یافتہ کمپنیوں پر پابندیوں کے بعد کیا گیا ہے،

رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ;’’جولائی کے بعد سے بھارتی انرجی کمپنی نیارا کو سعودی عرب اور عراق سے کوئی تیل نہیں ملا‘‘اگست کے مہینے میں بھارتی انرجی  کمپنی نیارا  نے صرف روسی خام تیل پر انحصار کیا، بھارتی انرجی کمپنی نیارا  عام طور پر ہر ماہ 20 لاکھ بیرل عراقی تیل درآمد کرتی ہے، اسی طرح وہ ماہانہ 10 لاکھ بیرل سعودی خام تیل بھی حاصل کرتی ہے، تاہم اگست میں ان دونوں ممالک سے بھارتی کمپنی کو کوئی سپلائی موصول نہیں ہوئی،

رائٹرز کے مطابق;’’یورپی یونین کی پابندیوں کے باعث بھارتی انرجی کمپنی نیارا کو خام تیل کی خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے‘‘بھارتی انرجی کمپنی نیارا کو اپنی مصنوعات کی فروخت اور ترسیل میں بھی رکاوٹوں کا سامنا ہے،بھارتی انرجی کمپنی نیارا کی ریفائنری بھارتی ریاست گجرات کے علاقے وادینار میں واقع ہے، پابندیوں کے باعث ریفائنری اس وقت صرف 70 سے 80 فیصد استعداد پر کام کر رہی ہے،رائٹرز کے مطابق بھارتی انرجی کمپنی نیارا کے ترجمان نے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا

روسی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ بھارتی انرجی کمپنی نیارا کو روسنیفٹ سے براہ راست تیل فراہم کیا جا رہا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی انرجی کمپنی نیارا کو عالمی شپنگ کمپنیوں سے بھی مشکلات درپیش ہیں،بھارتی انرجی کمپنی نیارا  اب اپنے تیل کی ترسیل کے لیے "ڈارک فلیٹ" کہلانے والے غیر رجسٹرڈ جہازوں پر انحصار کر رہی ہے،جولائی میں بھارتی انرجی کمپنی نیارا کے سی ای او نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا،یہ صورتحال بھارت کی توانائی فراہمی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے

یورپی یونین کے بار بار انتباہ کے باوجود مودی حکومت کی ہٹ دھرمی کا خمیازہ بھارتی کمپنیاں بھگت رہی ہیں۔