چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ ہمیں دہشت گرد کہنے والے آج پاکستان کو امن کا گہوارہ کہہ رہے ہیں۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ ہر سال حج اور عمرہ کے انتظامات میں بہتری آرہی ہے، ہمیں چاہیے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے قوانین پر عمل کریں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ 50 لاکھ پاکستانی عرب ممالک میں روزگار کما رہے ہیں، ایک آدمی کی غلط حرکت پوری کمیونٹی کو بدنام کر سکتی ہے۔
حج ختم ہوتے ہی عمرہ کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ ہر ملک کے اپنے قوانین ہیں کوئی لاہور سے جاکر ریاض میں کسی کو یہ نہیں بتا سکتا کہ اسے کیا کرنا ہے۔عمرہ کے دوران جو پکڑے جاتے ہیں ایک جو منشیات لے کر جاتے ہیں اور دوسرے جو بھیک مانگنے جاتے ہیں۔اگر ان دونوں چیزوں کو کنٹرول کرلیا جائے تو مزید بہتری آئے گی
فیصل آباد کی ایک فیملی کو مفت عمرے کی ٹکٹ دے کر منشیات بھجوادی گئی۔پاکستان کو اب وہ بھی امن کا گہوارہ کہہ رہے ہیں جو دہشت گرد کہتے ہیں۔امریکی، ایرانی اور عرب پاکستان کو امن کا گہوارہ کہہ رہے ہیں۔
جو فلسطینیوں کی خدمت الخدمت والوں نے کی اور کسی نے نہیں کی،فلسطین میں بیکریاں بھی بند کی جارہی ہیں۔امت کی وحدت کا واحد مرکز مکہ اور مدینہ ہے۔اگر 15 سے 20 لاکھ لوگ ایک حرم اور مسجد نبوی میں نماز پڑھ سکتے ہیں تو یہاں بھی ہم اتحاد قائم کرسکتے ہیں۔
حج اور عمرہ پر بھجوانے والی ایجنسیوں کو چاہیے کہ وہ جانے والوں کو وہاں کے قوانین سے مکمل آگاہ کریں۔کسی قسم کی فرقہ وارانہ اور سیاسی بحث مباحثہ میں نہ آئیں ۔