ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بدلتا موسم شہریوں کو خوف زدہ کرنے لگا

بدلتا موسم شہریوں کو خوف زدہ کرنے لگا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک : موسم کے بدلتے ساتھ ہی  ملک بھر کے شہری بالخصوص اسلام آباد کے باسی  خوف زدہ ہونے لگے ہیں ، ژالہ باری ان کا پہلے ہی لاکھوں کا نقصان کرچکی ہے 

اپریل کے مہینے میں اسلام آباد میں اپنی نوعیت کی شدید ترین ژالہ باری سے گاڑیوں اور املاک کو ہوئے نقصان کا ازالہ ابھی مکمل نہیں ہو پایا تھا کہ جمعرات کے دن طوفانی آندھی اور گرج چمک نے نظام زندگی اتھل پتھل کر دیا۔کشمیر اور ہزارہ ڈویژن کے علاقوں بشمول مظفر آباد اور ایبٹ آباد میں سہہ پہر تین بجے ’رات جیسی تاریکی‘ اور آندھی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ ہونا شروع ہوئیں تو اسلام آباد اور اس کے مضافات کے لوگ پہلے سے الرٹ ہو گئے۔  پانچ بجے تک اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مضافاتی علاقے بھی سیاہ بادلوں کے باعث چھانے والی تاریکی میں ڈوب چکے تھے۔ تاریکی کے علاوہ اسلام آباد کے شہریوں کو جس چیز نے خوفزدہ کیا وہ یہاں ہونے والی بے تحاشہ گر ج، چمک تھی۔  آسمان پر ایک جانب سے شروع ہونے والی آسمانی بجلی کی لہریں دوسرے سرے تک جاتی نظر آئیں اور دائیں بائیں اس کی متعدد لہریں نکلتیں۔ کئی بار تو ایسا لگا شاید بجلی زمین پر کہیں گری ہے۔صبح اسلام آباد میں کئی مقامات پر درحت گرے ملے اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے آندھی سے اُکھڑ کر گرنے والے سولر پینلز کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔درخت گرنے سے لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات  مل رہی ہیں
محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ پر بھی آندھی طوفان سے متعلق ریڈ الرٹ جاری کیا گیا جس کے مطابق چار مئی تک موسم انتہائی خراب ہو سکتا ہے جس میں آندھی، گرچ چمک اور کہیں کہیں ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔وراننگ کے مطابق اس سب سے بجلی کے کھمبوں، درختوں، گاڑیوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔محکمہ  موسمیات کےجمعہ کے دن پیش گوئی کے مطابق کشمیر، خیبرپختونخوا، پوٹھوہار، اسلام آباد، شمال مشرقی اور وسطیٰ پنجاب اور گلگت بلتستان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔اس عرصے کے دوران کہیں کہیں ژالہ باری اور موسلا دھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔بالائی سندھ اور شمال مشرقی بلوچستان میں چند مقامات پر شام اور رات کے اوقات میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے محکمہِ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی جس سے حالیہ ہیٹ ویو بھی کم ہوئی ،محکمہ موسمیات کے مطابق ملک بھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جس میں خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان شامل ہیں۔ کئی علاقوں میں ژالہ باری اور درجہ حرارت میں کمی امکان ہے۔

کیا موسم ماحولیاتی تبدیلی سے مستقل بدل گیا؟
ایک سوال کیا موسم کی تبدیلیاں ماحولیاتی تبدیلی کا اثر ہیں اور کیا اس پیٹرن کو مستقل تبدیلی سمجھا جائے؟ شہریوں کے اذہان میں پل رہا ہے اس سوال کے جواب میں محکمہِ موسمیات کے ڈائریکٹر ظہیر بابر کہتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی اب ایک حقیقت بن چکی ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہے۔’شدید موسم چاہے وہ آندھیاں ہوں، بارش اور سیلاب ہو، شدید گرمی کی لہر ہو یا طوفان او ژالہ باری یہ سب آنے والے وقت میں بہت زیادہ دیکھنے کو ملے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہی اب نیا موسمی پیٹرن ہو گا تو غلط نہ ہو گا۔‘
’پچھلے چند سالوں سے ہیٹ ویوز بھی شدید ہو گئی ہیں، ہوائیں بھی شدید ہیں، درجہ حرارت کا تضاد شدید ہو گیا ہے جس سے ہواؤں میں شدت آ رہی ہے اور ژالہ باری کے دوران پڑنے والے اولوں کا حجم بھی بڑا ہو رہا ہے۔‘
لوگ پریشان ہیں کہ پہلے کی طرح پھر سے شدید ژالہ باری نہ ہو یا ایسا دوبارہ ہو سکتا ہے؟
 ’مارچ اور اپریل ٹرانزیشن کا وقت ہوتا ہے اس میں گرچ چمک کے ساتھ طوفان، آندھیاں اور گرد باد ہوتے ہیں۔ موسم ٹھنڈے سے گرم کی طرف جا رہا ہوتا ہے تاہم ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ان موسمی حالات کی شدت بڑھتی جا رہی ہے۔‘
دن کے وقت رات کا سماں کیوں ہوا؟ اس بارے میں بتایا گیا کہ ’گرچ چمک والے بادل سی بی کلاؤڈ کہلاتے ہیں۔ یہ عمودی ہوتے ہیں اور زیادہ پریشان کُن ہوتے ہیں۔ یہ فضائی ٹریفک کے لیے خطرہ ہوتے ہیں۔ یہ تاریکی بادلوں کے گھنے ہونے کی وجہ سے تھی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے بادلوں میں زیادہ تر گرج چمک ، بجلی گرنے اور آندھیوں کا خدشہ ہوتا ہے۔‘
’ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنی تعمیرات کو بہتر بنانا ہو گا تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔‘
حال ہی میں پانی کی کمی کا الرٹ بھی جاری ہوا ہے، اتنے خراب موسم کے باوجود بارش کی مقدار کیوں کم ہے؟اس سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ  ’چونکہ مارچ اپریل موسمی تبدیلی کا وقت ہے اس لیے اس میں بارشیں کم ہوتی ہیں۔ تاہم مون سون میں بارشیں ہوتی ہیں اور پانی کی کمی پوری ہونے کا امکان ہے۔‘
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق مئی، جون اور جولائی میں ایل نینو سدرن اوسلیشن پورے سیزن میں نیوٹرل فیز میں رہنے کی توقع ہے جس کی وجہ سے ملک کے وسطیٰ اور جنوبی حصوں میں معمول سے کچھ زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے۔ جس میں سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شمال مشرقی حصوں میں متوقع ہے۔اس کے برعکس شمالی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت شمالی علاقوں میں پیشگوئی کی مدت کے دوران معمول سے قدرے کم بارش کا امکان ہے۔مئی جون اور جولائی کے دوران گرمی کی لہر کے بڑھنے کے امکانات ہیں۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں۔ درجہ حرارت میں تبدیلی کے دوران تیز ہوائیں، گرد و غبار کے طوفان اور ژالہ باری ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق موسم کی دوسری ششماہی کے دوران موسلا دھار بارشوں کے واقعات کی وجہ سے سندھ، پنجاب، آزاد جموں و کشمیر اور کے پی کے بڑے شہروں کے پہاڑی علاقوں اور میدانی علاقوں میں فلیش یا اربن فلڈنگ کا امکان ہے۔بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں درجہ حرارت میں اضافے سے برف پگھلنے میں تیزی آنے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو گا۔
کچھ لوگ اب بھی اس موسم کو انجوائے کرتے ہیں، سوشل میڈیا ریلز بنانے کے لیے لوگ کھلے آسمان تلے نکل جاتے ہیں۔ جب آندھی کے ساتھ شدید گرج چمک ہو تو حفاظتی تدابیر اپنانی چاہیں ’جو بھی گرچ چمک کے ساتھ طوفان آئے تو ہمیں کسی چھت کے نیچے خود کو محفوظ کر لینا چاہیے۔‘باہر نکلنے اور سفر پھر جانے سے پہلے موسم کی صورتحال سے آگاہ رہیں کوشش کریں کہ چار دیواری میں رہیں، خود کو کھلے آسمان تلے نہ رکھیں
بجلی چمکنے کی صورت میں کسی درخت کے نیچے ہرگز کھڑے نہ ہوں،اگر آپ کھلے میدان میں ہیں تو زمین پر لیٹ جائیں تاکہ آسمانی بجلی کا نشانہ نہ بنیں،خراب موسم میں غیر ضروری سفر اور باہر جانے سے گریز کریں

 بظاہر سوشل میڈیا صارفین انڈیا اور پاکستان کی حالیہ کشیدگی کے بعد جنگ کے امکان سے اتنے خوفزدہ نہیں جتنے وہ موسم کی تبدیلی سے دکھائی دیتے ہیں۔ایک سوشل میڈیا صارف نے جمعرات کی شام اسلام آباد میں آنے والی آندھی کے بعد لکھا ’میں دو سیکنڈ کے لیے باہر گئی تھی اور لگا کہ اڑ ہی جاؤں گی۔‘ایک اورصارف نے سماجی رابطی کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’اسلام آباد، پنڈی میں موسم اس وقت خوفناک ہے۔ ہوا کا طوفان اس شدت کے ساتھ آ رہا ہے جو میں نے شاذ و نادر ہی دیکھا ہے۔ ہوائیں اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو ادھیڑ رہی ہیں۔‘ 

 ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اسلام آباد، راولپنڈی کا موسم اس وقت خوفناک ہے۔ ہوا کا یہ طوفان بہت تیز ہے، ہوائیں ہر چیز کو تباہ کر رہی ہیں۔ اللہ سب کی حفاظت کرے، انھیں سلامت رکھے اور اس طوفان کو پرسکون رکھے۔ میں چار سال سے پنڈی میں رہ رہی ہوں اور اس سے زیادہ خوفناک آندھی نہیں دیکھی۔‘

ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ  ’آج پانچ 5 بجے سے کچھ پہلے اسلام آباد میں گھپ اندھیرا چھا گیا اور پھر طوفان کے ساتھ تیز بارش! بارش سے نہیں ژالہ باری سے ڈر لگتا ہے صاحب!‘

جہاں ایک طرف لوگ گرچ چمک اور دن میں رات کے سماں کی ویڈیوز شیئر کر رہے تھے وہیں دوسرے شہروں میں مقیم دوست اور رشتہ دار ان سے خیریت دریافت کرتے اور یہ کہتے نظر آئے کہ ’امید ہے سب ٹھیک ہے۔‘کچھ لوگ تو سوشل میڈیا پر آندھی طوفان کے دوران تباہی اور نقصان سے بچنے اور محفوظ رہنے کی دعائیں بھی شیئر کرتے نظر آئے۔ صارف نے ایکس پر لکھا ’مئی اسلام آباد میں ایسا ہی ہے۔۔۔ غیر یقینی اور شدید موسم ۔۔۔ عام طور پر، ہم ایک اپر یا ہوڈی ساتھ رکھتے ہیں۔‘