امانت گشکوری: سپریم کورٹ نے پانچ سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اپنی مرضی سے نشہ کرنے والا شخص مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
مقدمہ 22 جنوری 2014 کو بلوچستان کے ضلع سبی میں درج کیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے مجرم کو سزائے موت سنائی تھی جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ مجرم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وقوعہ کے وقت وہ نشے کی حالت میں تھا، اس لیے اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قانون کے تحت صرف اسی صورت میں نشے کو دفاع کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف نشہ آور شے دی گئی ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ رضاکارانہ طور پر شراب یا دیگر نشہ آور اشیا استعمال کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ فعل کی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ مجرم نے خود اعتراف کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی، لہٰذا وہ نشے کو اپنی صفائی میں استعمال کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مجرم نے پانچ سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کیا، اس لیے اس کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے۔