ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان میں ایک دن میں ساتواں زلزلہ

Karachi earthquake, earthquake, Defence Karachi,
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پاکستان میں ایک دن میں ساتواں زلزلہ آ گیا۔

گزشتہ چھ زلزلوں کی طرح یہ زلزلہ بھی کئی فالٹ لائنوں پر آباد پاکستان کے سب سے بڑے شہر  کراچی میں آیا ہے۔ آج یہ فالٹ لائنیں متحرک ہوئی ہیں اور کم شدت کے کئی زلزلے آ چکے ہیں۔  خطرناک بات یہ ہے کہ تمام زلزلوں کے مرکز  کم گہرائی میں پائے گئے ہیں۔ اتنی کم گہرائی میں اگر کچھ زیادہ شدید زلزلہ آ گیا تو یہ خوفناک ثابت ہو سکتا ہے۔ زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے بیشتر علاقوں کی طرح کراچی مین بھی بیشتر عمارتین زلزلہ پروف نہیں ہیں اور شہر میں بہت سی عمارتین بوسیدہ بھی ہیں۔


ابتدائی اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقہ ڈیفنس کے مختلف علاقوں  میں  زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ زلزلہ کے جھٹکوں نے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا۔ بہت سے لوگ کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔
ریختر سکیل پر اس ساتویں زلزلے کی شدت3.0ریکارڈ کی گئی ہے۔

گہرائی 13کلومیٹر  تھی،زلزلہ پیما مرکز نے بتایا ہے کہ اس  زلزلے کا مرکز  کراچی کی آبادی ڈیفنس سے 30 کلومیٹر دور مشرق میں تھا۔ 
 زلزلہ کے جھٹکے 8:49 منٹ پر محسوس کیے گئے۔ 

زلزلہ کیوں آیا؟
 چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر  نے بتایا کہ یہ زلزلے کے جھٹکے لانڈھی فالٹ ریجن میں آرہے ہیں، یہ زلزلے کے معمولی جھٹکے ہیں، اس فالٹ لائن پر آج تک بڑے زلزلے کے جھٹکے نہیں آئے ہیں، کراچی کی دوسری فالٹ لائن تھانہ بولا خان کے قریب ہے اور یہ دونوں متحرک فالٹ لائن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان دنوں میں معمولی شدت کے زلزلے رپورٹ ہوتے ہیں، کیرتھر کے قریب بھی مین باؤنڈری لائن ہے، یہاں معتدل شدت کی زلزلے رپورٹ ہوتے رہتے ہیں، فالٹ لائن کو معمول پر آنے میں چند روز لگ سکتے ہیں، اس فالٹ لائن پر آئندہ چند روز تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

فالٹ لائن کیا ہوتی ہے؟
چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر نے بتایا کہ فالٹ لائنز زمین میں موجود دراڑ کو کہا جاتا ہے جو کسی بھی توانائی کے دباؤ کی صورت میں پیدا ہوتی ہے، زیرِ زمین جب کافی زیادہ مقدار میں توانائی جمع ہوجاتی ہے تو پھر فالٹ لائن (دراڑ) اپنی انرجی چھوڑتی ہے جس کی وجہ سے زلزلے آنا شروع ہوتے ہیں۔

کراچی میں مجموعی طور پر کتنی فالٹ لائنز ہیں؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے چیف میٹرولوجسٹ نے بتایا کہ فالٹ لائنز لاتعداد ہوتی ہیں جن کی گنتی تقریباًنا ممکن ہے، اس کی کافی ساری اقسام ہوتی ہیں جیسے کہ کچھ فعال یعنی متحرک ہوتی ہیں، کچھ کی شناخت کرلی جاتی ہے جب کہ کچھ ناقابلِ شناخت ہوتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کی تعداد اور نوعیت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

کراچی میں زلزلے کم آنے کی کیا وجہ ہے؟
 امیر حیدر کے مطابق شہر میں موجود فالٹ لائنز اس نوعیت کی ہیں کہ وہ کم شدت کے زلزلوں کی وجہ بنتی ہیں جس کے باعث شہرِ قائد زلزلوں سے محفوظ رہتا ہے۔

مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امیر حیدر کا کہنا تھا کہ زلزلوں کی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی لہٰذا یہ بھی نہیں بتایا جاسکتا کہ آئندہ سالوں میں کراچی میں زلزلے آسکتے ہیں یا نہیں۔

 ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیسمک نیٹ ورک کے ڈائریکٹر اور محقق زاہد رفعی نے ملک کی فالٹ لائنز کے بارے میں تفصیلی بتایا۔زاہد رفعی کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں کے نیچے سے گزرنے والی متحرک فالٹ لائنز کو دیکھتے ہوئے ملک کو زلزلے کے اعتبار سے 5 زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 

 
اس تصویر کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ایسے زونز ہیں جہاں کسی بھی وقت زلزلے کے شدید جھٹکے آسکتے ہیں، سب سے زیادہ خطرناک زون میں شمالی علاقے، مکران، کوئٹہ ریجن اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اکثر علاقے شامل ہیں۔ 

کم خطرناک زونز میں اسلام آباد اور سالٹ رینج کے علاقے 
ان زونز میں آنے والے بڑے شہروں میں کراچی، پشاور، ایبٹ آباد، کوئٹہ، گلگت اور چترال شامل ہیں، اس کے علاوہ کم خطرناک زونز میں اسلام آباد اور سالٹ رینج کے علاقے آتے ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق زاہد رفعی نے بتایا پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے زلزلے کے خطرے سے محفوظ ہیں اور اس کے علاوہ تقریباً سارے ملک کے نیچے سے زلزے کا باعث بننے والی فالٹ لائنز گزرتی ہیں۔پاکستان چونکہ کوہ ہندو کش کے پہاڑی سلسلے کے قریب ہے جہاں ہر وقت زلزلے کے جھٹکے آتے ہیں اس لیے کم یا درمیانی شدت کا زلزلہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملک کے شمال مغربی علاقوں میں کسی وقت بھی آسکتا ہے۔ زاہد رفعی نے بتایا کہ پاکستان کے 2 تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانی درجے کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے لیکن شدید زلزلہ کبھی کبھار ہی آتا ہے۔