ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری ایک تاریخی کامیابی ہے؛ احسن اقبال

2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری ایک تاریخی کامیابی ہے؛ احسن اقبال
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری ایک تاریخی کامیابی ہے، جسے تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے پذیرائی ملی۔ مردم شماری پر اعتماد بحال ہوا ہے مگر اس کے نتائج نے کئی اہم قومی چیلنجز کو بھی نمایاں کیا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے 2023 کی مردم شماری کے اعداد و شمار، ان کی عوامی تشہیر کے منصوبے اور "اُڑان پاکستان" ڈیٹا سینٹر کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ پاکستان میں 30 سال بعد ایک بار پھر آبادی میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے  "ہم اُن ممالک میں شامل ہو چکے ہیں جہاں سالانہ شرحِ افزائش آبادی 2.5 فیصد سے زیادہ ہے " انہوں نے صوبوں پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر مردم شماری کے اعداد و شمار کو مؤثر اور نتیجہ خیز طریقے سے استعمال کرنا ہوگا تاکہ پالیسی سازی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ درست فیصلہ سازی کا واحد راستہ اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی ہے۔ 

  احسن اقبال نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک 90 فیصد شرح خواندگی کے بغیر ترقی یافتہ نہیں بن سکا جبکہ پاکستان میں یہ شرح صرف 60 فیصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مردم شماری کے ذریعے یہ جانچ ممکن ہوئی ہے کہ کون سے اضلاع میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور کہاں بچے  سکولوں سے باہر ہیں ،"مردم شماری کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔" وفاقی وزیر نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور انسانی وسائل ہی اصل قومی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے فائیو ایز (برآمدات، توانائی، ماحول، تعلیم، اور ای-گورننس) کے ہدف کی کامیابی بھی مستند اعداد و شمار سے مشروط ہے۔

وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ مردم شماری کے اعداد و شمار کی روشنی میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی منصفانہ تقسیم کی جائے تاکہ ترقی کے میدان میں عوامی نمائندگان کے درمیان صحت مند مقابلے کی فضا پیدا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ توانائی، درآمدات، خوراک کی فراہمی اور روزگار جیسے مسائل کے حل میں اعداد و شمار ایندھن کا کردار ادا کرتے ہیں۔ محروم علاقوں کی شناخت، نوجوانوں کے روزگار اور مہارت سازی کے لیے بھی ڈیٹا کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

احسن اقبال نے تجویز دی کہ پی بی ایس کا اگلا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ دستیاب ڈیٹا کو مفید اور قابلِ استعمال معلوماتی مصنوعات میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کو نجی شعبے، تحقیقاتی اداروں، چیمبرز آف کامرس اور جامعات کی ضروریات کے مطابق اکٹھا کیا جائے۔  انہوں نے کہا کہ جدید معیشت میں فیصلہ سازی کا ایندھن اعداد و شمار ہیں۔ ہمیں ایسے اعداد و شمار درکار ہیں جو مقصدیت کے حامل ہوں۔ سائنسی ترقی کے لیے بھی ڈیجیٹل اعداد و شمار بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی بحالی کو سراہا جا رہا ہے اور ہمارے معاشی اشاریے دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنایا جائے گا،انہوں نے کہا کہ "اُڑان پاکستان ڈیٹا سینٹر جدید اور شفاف حکمرانی کی بنیاد فراہم کر رہا ہے۔" 

اس موقع پر چیف شماریات نعیم الزفر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ شماریات نے حال ہی میں عالمی معیار کے مطابق ایک جدید ٹائیر اڑان پاکستان  ڈیٹا سینٹر قائم کیا ہے  جس کا مرکزی مقام اسلام آباد میں جبکہ مکمل فعال ڈیزاسٹر ریکوری سائٹ لاہور میں قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  یہ مرکز جدید ورچوئل نظام پر مبنی ہے، جو آئندہ کئی برسوں کے لیے اعداد و شمار کی پروسیسنگ اور محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مرکز میں اعلیٰ معیار کے سرور نصب کیے گئے ہیں جو بھاری کمپیوٹیشنل اور ڈیجیٹل کاموں کی انجام دہی کے لیے موزوں ہیں۔ اس میں 700 ٹیرا بائٹ سے زائد ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، جس میں 512 ٹیرا بائٹ کی مرکزی اسٹوریج اور 184 ٹیرا بائٹ کا بیک اپ سسٹم شامل ہے تاکہ ڈیٹا کے تحفظ اور کاروباری تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔