ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

غیر مستحکم موسمی حالات نے غزہ کی انسانی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ؛مسلم ممالک کے وزرائےخارجہ کا مشترکہ بیان

 غیر مستحکم موسمی حالات نے غزہ کی انسانی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ؛مسلم ممالک کے وزرائےخارجہ کا مشترکہ بیان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ  نے  مشترکہ بیان جاری کیا .

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہرا اظہار تشویش کیا،شدید ترین، غیر مستحکم موسمی حالات بشمول موسلا دھار بارشوں و طوفان نے غزہ کی انسانی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ناکافی انسانی رسائی، زندگی بچانے والی بنیادی اشیاء کی شدید قلت، اور بنیادی سہولیات کی قلت و عارضی رہائش کے قیام کے لیے ضروری مواد کی سست رفتار آمد نے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے، مسلم ممالک کے وزرا نے زور دیا کہ شدید موسم نے موجودہ انسانی حالات کی نازک حالت کو بے نقاب کر دیا ہے، یہ نازک حالات بالخصوص تقریباً 19 لاکھ افراد اور بے گھر خاندانوں کے لیے ہیں جو غیر مناسب پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔

زیرِ آب کیمپ، خیموں کو نقصان، مخدوش عمارتوں کا انہدام، سرد موسم میں کھلے عام رہائش اور غذائی قلت نے شہری جانوں کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ان خطرات میں بچوں، خواتین، بزرگوں اور طبی کمزور افراد کو زیادہ متاثر کرنے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی شامل ہے۔وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے تمام اداروں، بالخصوص یو این آر ڈبلیو اے (UNRWA)، اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی کی تنظیموں کی انتھک کوششوں کو سراہا۔یہ تنظیمیں انتہائی مشکل حالات میں فلسطینی شہریوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل یقینی بنائے کہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی این جی اوز غزہ اور مغربی کنارے میں مستقل، قابلِ پیش گوئی اور بلا رکاوٹ انداز میں کام کر سکیں۔انسانی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا،وزرا نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیااورانہوں نے ان منصوبوں کے مؤثر نفاذ میں کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیاتاکہ جنگ بندی کو پائیدار بنایا جا سکے، غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہو اور فلسطینی عوام کو باوقار زندگی میسر آ سکے،۔

اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد راستہ ہموار کرنے پر زور دیا گیا۔اس تناظر میں، فوری طور پر ابتدائی بحالی کے اقدامات شروع کرنے اور انہیں وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

ان میں سخت سردیوں سے بچاؤ کے لیے پائیدار اور باعزت پناہ گاہوں کی فراہمی شامل ہے۔وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے۔انہوں نے قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی اپیل کی کہ وہ خیموں، پناہ گاہوں کے سامان، طبی امداد، صاف پانی، ایندھن اور صفائی و نکاسی کے وسائل سمیت ضروری اشیاء کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔غزہ پٹی میں اقوامِ متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے بلا رکاوٹ، مکمل اور فوری انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق رفح کراسنگ کو دونوں اطراف کے لیے کھولنے پر بھی زور دیا گیا۔