ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

موجودہ موسمیاتی بحران میں مشترکہ ذمہ داری مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے؛وزیرِ اعظم

موجودہ موسمیاتی بحران میں مشترکہ ذمہ داری مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے؛وزیرِ اعظم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ ایس سی او (پلس) سے خطاب میں صدر شی جنپنگ کے گلوبل گورننس انیشیٹو (GGI) کے اجراء کے تاریخی اعلان کی تعریف کی 

 وزیرِاعظم  نے  GGI کی حمایت کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار   کیا ؛ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا گلوبل گورننس انیشیٹو ایک مضبوط کثیرالجہتی نظام کی طرف ایک تاریخی قدم ہے.  گلوبل گورننس انیشیٹو، اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے.یہ اقدام عالمی گورننس سسٹم کو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے میں معاون ثابت ہوگا.گلوبل گورننس انیشیٹو کرہ ارض کو درپیش جدید چیلنجز سے نمٹنے میں مدد گار بنے گا. پاکستان اس اقدام میں فعال طور پر حصہ لینے کیلئے گہری دلچسپی رکھتا ہے.

وزیر اعظم نے کہا   شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے کامیاب انعقاد پر چینی صدر عزت مآب شی جنپنگ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں.  تیانجن اعلامیہ قابل تعریف ہے.پر امید ہیں کہ اس سے خطے میں امن اور خوشحالی کے مشترکہ مقصد کو فروغ ملے گا۔  امن، ترقی اور روابط کے فروغ کے ساتھ ایس سی او کے چارٹر اور "شنگھائی سپرٹ" میں درج سنہری اصولوں کو برقرار رکھنے کیلئے پاکستان پر عزم ہے۔  موجودہ موسمیاتی بحران میں مشترکہ ذمہ داری مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے.

  وزیر اعظم نے کہا پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو مسلسل موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی آفات کا سامنا ہے.یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ماحول دشمن گیسوں کے عالمی اخراج میں پاکستان اور اس جیسے دیگر ترقی پذیر ممالک کا حصہ صرف 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ عالمی قیادت کو ترقی پذیر ممالک کا بوجھ بانٹنے کی ضرورت ہے تاکہ مزید قیمتی جانوں اور معاشی نقصانات سے بچا جا سکے۔پاکستان تنازعات پر مذاکرات اور تمام مسائل کو پر امن طریقے سے حل کرنے کو ترجیح دیتا ہے.  پاکستان غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے گھناؤنے جرائم کی مذمت کرتا ہے. پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے حل کے ساتھ ساتھ خطے میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔ لاؤس پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک کی ایک ڈائیلاگ پارٹنر کے طور پر ایس سی او فیملی میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ایس سی او (پلس) اجلاس میں مستقل ارکان کے سربراہان مملکت کے ساتھ ساتھ ڈائیلاگ پارٹنرز اور ابرزرور ممالک عالمی تنظیموں کے سربراہان و نمائندے بھی شریک تھے.