ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر امریکی قیادت کے سخت بیانات سامنے آ گئے ہیں، جن میں ممکنہ اقدامات اور عالمی اثرات سے متعلق اہم دعوے کیے گئے ہیں۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدے کیلئے بے چین ہے، تاہم اسے کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق امریکا ایران کی عسکری اور معاشی صلاحیت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچا چکا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بی ٹو سپیرٹ بمبار طیاروں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے، جبکہ ایران کی بحری اور فضائی قوت بھی کمزور ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو ہدایت دی کہ ایران کے خلاف طویل المدتی ناکہ بندی کی تیاری کی جائے، اور کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ویسا ہی رویہ اختیار کر رہا ہے جیسا وینزویلا کے ساتھ کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے متعدد بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں اور ملک شدید بحران کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال بھی خراب ہے اور انہوں نے چند افراد کی سزائے موت رکوانے کا بھی ذکر کیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ حملوں نے ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا ہے، اور جنگ کے خاتمے کے بعد تیل و گیس کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو اپنے اتحادیوں، خصوصاً نیٹو سے خاطر خواہ تعاون نہیں ملا۔
انہوں نے یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ امریکا جرمنی، اٹلی اور سپین سے اپنی فوج واپس بلا سکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران شدید دباؤ میں ہے اور چاہتا ہے کہ امریکا جلدسٹریٹ آف ہرمز کو کھول دے۔انہوں نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ وہ ماضی میں کئی جنگیں رکوا چکے ہیں، جن میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی بھی شامل ہے۔