سٹی42: ماں مریم کی حکومت میں دس بچیاں گاڑی میں غیر قانونی ایل پی جی استعمال ہونے کے سبب جھلس گئیں، ایک بدقسمت زندہ جل گئی۔ یہ سٹوڈنٹس جس وین میں بیٹھ کر اگلے گریڈ میں پروموشن کا پیپر دینے کے بعد گھروں کو واپس جا رہی تھیں، اس کے مالک نے زیادہ پیسہ کمانے کی ہوس میں وین کے اندر ایل پی جی کا ناقص سلنڈر لگا رکھا تھا۔
اس سانحہ پر پنجاب حکومت کا کوئی ایکشن شام پانچ بجے تک سامنے نہیں آیا۔
طالبات کی وین میں آگ لگنے کا روح فرسا سنحہ تحصیل احمدپور شرقیہ ٹول پلازہ کے قریب پیش آیا جس کے نتیجے میں ایک طالبہ جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئیں۔
19 طالبات لیاقت پور سے احمد پور شرقیہ فرسٹ ائیر کا پیپر دینے آئی تھیں، ان کی وین میں آگ ایل پی جی گیس لیکیج کے باعث لگی اور حادثے کے نتیجے میں 8 طالبات محفوظ رہیں۔
معصوم بچیوں کے قتل کا یہ سانحہ احمد پور ٹول پلازہ کے قریب ہوا۔
اس وین میں 19 بچیاں سوار تھیں، سب کالج کی سٹوڈنٹ تھیں۔
سانھہ ایل پی جی سلنڈر سے گیس لیک ہونے سے ہوا؛ ریسکیو ون ون ٹو ٹو اہلکاروں کا بیان
یہ سانحہ کسی روڈ ایکسیڈنگ سے نہین بلکہ وین کے اندر غیر ذمہ دارانہ طریقہ سے لگائی گئی ممنوعہ ایل پی جی ٹینکی سے گیس لیک ہو جانے کی وجہ سے ہوا۔
یہ ارے نہیں۔۔۔ ممنوع گیس سلنڈر نہیں شارٹ سرکٹ! وہ تو ہم وقت پر پہنچ گئے اور بچیوں کو جلتی وین سے نکال لیا۔۔۔!!
موٹر وے پولیس نے کسی فورنزک کے بغیر ہی اس وین کو آگے بھلی کے شارٹ سرکت سے لگنے کا سرٹیفیکیٹ دے ڈالا۔ موٹروے پولیس کے ترجمان سید عمران احمد نے کسی مافوق الفطرت ٹول کی مدد سے پتہ لگایا کہ آنِ واحد میں بچیوں سے بھری وین مین آگ لگنے کا واقعہ گیس سلنڈر کو آگ لگنے سے نہیں بلکہ بجلی کے شارٹ سرکٹ سے ہوا۔ وین میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔
موٹرے وے پولیس مجرم ڈرائیور کے نکل جانے کے بعد "فوری طور پر" پہنچ گئی
موٹر وے پولیس کے ترجمان نے ایک طرف تو دعویٰ کیا کہ وہ فوری طور پر "موقع" پر پہنچ گئے تھے، اس کے ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا کہ گاڑی کا ڈرائیور "موقع" سے فرار ہو گیا تھاْ
یہ جاننا سر دست مشکل ہے کہ فوری طور پر ڈرائیور "موقع" سے بھاگا، یا کہ فوری طور پر موٹر وے پولیس "موقع" پر آئی۔ بہرحال یہ واضح ہے کہ موٹر وے پولیس نے مجرم ڈرائیور کو نہین پکرٓ، یا نہین پکڑ پائی۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ موٹر وے پولیس کا "فوری طور پر" پہنچنا واقعتاً فوری نہیں تھا۔
موٹر وے پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہ ڈرائیور کو تلاش کر رہے ہین لیکن شام پانچ بجے تک ڈرائیور کو پکرنے کی کوئی اطلاع نہیں۔