سٹی42: پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آج پھر جھگڑا ہو گیا۔ سینیٹر مشال یوسفزئی اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل جکی حیثیت سے کام کرنے والی وکیل سلمان اکرم کراجا آمنے سامنے آ گئے، دونوں کے درمیان تلخ جملوں پر مبنی بحث ہوتی رہی۔
اسلام آباد میں کی ٹی آئی کی سینیٹ میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور پی ٹی آئی کور کمیٹی کی رکن سینیٹر مشال یوسف زئی کے درمیان اختلافات ایک بار پھر ابھر کر سامنے آگئے۔
پی ٹی آئی کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مشال یوسف زئی اور سلمان اکرم کے درمیان سخت بثٹ ہوئی اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ مشال یوسف زئی نے بانی پی ٹی آئی کی باتیں "ٹھیک طرح سے باہر نہ آنے" پر احتجاج کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے سلمان اکرم راجا پر الزامات لگائے۔
ذرائع کے مطابق بانی کی ہدایت پر خیبر پختونخوا سے بنوائی گئی خاتون سینیٹر مشال یوسف زئی نے سلمان اکرم راجا پر بانی پی ٹی آئی کا پیغام ٹھیک طرح سے نہ پہنچانے کاالزام لگایا۔ سلمان اکرم راجا نے الزامات کو جھوٹ قرار دیا جب وہ بولے تو بات بڑھ گئی۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور مشال یوسفزئی کے درمیان بحث کے نتیجے میں دونوں کے درمیان موجود گہرے اختلافات سامنے آگئے
ذرائع نے بتایا کہ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جن افراد کی ملاقات یا پیغام لانے کی ذمہ داری ہے وہ درست پیغام پہنچاتے ہیں، ملاقات محدود ہوتی ہیں، ہمیں مجبوراً ان افراد کی باتوں پر اعتماد کرنا ہوتا ہے۔
اجلاس کے بعد مشال یوسف زئی نے سلمان اکرم راجا سے سخت جملوں کے تبادلے پر مؤقف دینے سے گریز کیا۔
مشال یوسف زئی نے کہاکہ میں اس معاملے پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے پہلے بھی مشال یوسف زئی اور سلمان اکرم راجا کے درمیان اختلافات سامنے آچکے ہیں۔ اس سے پہلے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں مشال یوسف زئی کی پی ٹی آئی کے اتحادی علامہ ناصر عباس کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں علامہ ناصر عباس نے پی ٹی آئی کی قیادت سے مشعال یوسف زئی کی شکایت بھی کر دی تھی۔