سٹی42: جھوٹ پھیلانا اب ناممکن ہونے جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے میں ملوث صحافیوں کو بھی اب بھگتنا پڑ جائے گا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے آج لاہور مین میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ طویل انٹریکشن کے دوران یہ بھی بتایا کہ کسی زندہ کو مار دینا، کسی مردہ کو زندہ کر دینا سوش؛ میڈیا پر اب نہیں ہو گا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ سخت کریک ڈاؤن ہونے والا ہے۔
انہوں نے کہا، سوشل میڈیا پہ کوئی جھوٹ لے کر سوشل میڈیا پر اس کو پھیلائیں گے، تو اس کی ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ سوشل میڈیا پہ آپ جو مرضی بول دیں۔ جس کے خلاف جو مرضی ہے پوسٹ لگا دیں۔
محسن نقوی نے کہا، جو زندہ ہے اس کو مار دیں، جو مرا ہوا ہے تو اس کو زندہ کر دیں؛ اب یہ چیز نہیں ہو سکتی۔ اس کے اوپر ہم مل بیٹھ کر انفارمیشن منسٹری کے ساتھ این سی سی ائی اے میں مشاورت کر رہے ہیں، بڑے سکیل پر کریک ڈاؤن کریں گے۔
وزیر داخلہ نے ٹھوس لہجے میں بتایا، ہم اجازت نہیں دیں گے کہ اپ اس طرح فیک نیوز کو سپریڈ کریں، پورے ملک میں ایک (خوف و ہراس) پینیک پھیلائیں اور اس کے بعد آپ کو کوئی کچھ کہہ دے تو شور بھی مچا دیں۔
محسن نقوی نے کہا، میں بڑی عزت کے ساتھ سب سے ریکویسٹ کر رہا ہوں کہ آپ پلیز اس کو دیکھیں۔ صحافی ہمارے لیے بالکل امپورٹنٹ ہیں اور آزادیِ رائے بالکل امپورٹنٹ ہے۔ اور وہ اسی طرح رہنا چاہیے۔ لیکن یہ فیک نیوز ہے۔
جو جی میں آئے تنقید کرو لیکن خبر جھوٹی نہ ہو!
محسن نقوی نے جو ایک نیوز آؤٹ لیٹ کے بانی کارکن بھی ہیں، واضح کیا، میں اس ٹائم پہ خود بطور صحافی اس چیز کو بالکل ویلیو کرتا ہوں کہ ہمیں یہ آزادی دینا چاہیے اور آزادی ہونا چاہیے کہ جس کا جو دل کرے وہ لکھےاور بولے۔ ہمارے خیال میں اگر کسی نے کریٹیسائز (تنقید) کرنا ہے بالکل کریں لیکن۔۔۔۔ محسن نقوی نے تنقید کو جھوٹ سے الگ کرنے کی ضرورت پر توجہ دلاتے ہوئے کہا، اس ٹائم، پچھلے چند دنوں سے۔ کئی ہفتوں سے سوشل میڈیا پر، میرے خیال میں، 90 پرسنٹ "خبریں" غلط چل رہی ہیں۔
نیوز آؤٹ لیٹس میں ڈسپلن ہے، جواب دہی ہے
محسن نقوی نے کہا، آپ کا نیشنل میڈیا ہے، کوئی چیز غلط چلتی ہے تو پیمرا میں کمپلینٹ ہوتی ہے۔ کوئی چیز غلط ہوتی ہے تو آپ - ہررپورٹر ، اپنے ڈائریکٹر نیوز کو جواب دے ہوتا ہے۔ کوئی چیز اوپر نیچے ہوگی تو بیورو چیف اس سے پوچھے گا، رپورٹر سے کہ بھائی آپ نے یہ کیوں کیا، یہ کیسے کیا ہے۔
اس کے برعکس، محسن نقوی نے کہا، سوشل میڈیا پہ اس ٹائم پہ کسی کی تصویر لگائیں گے، جس کا جو دل کرے گا، وہ خبر بنائیں گے اور اس کو چلائیں گے۔
ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ آپ کا، جس کا دل کرے، اس کو آپ چاہیں، جتنی مرضی ایویڈنس ہے ااپ کے پاس بالکل دیں۔ پروفیشنل رپورٹر کی حیثیت سے اپنی سٹوری دیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ سوشل میڈیا پہ آپ جو مرضی بول دیں، کسی کے بھی خلاف ، جو مرضی ہے، ایپلیکیشن لگا دیں آپ جس خبر کو جس طرح، مکھی سی کو ، جو زندہ ہے اس کو مار دیں، اور کسی کو جو مرا ہوا ہے تو اس کو زندہ کر دیں؛ یہ چیز نہیں ہو گی۔ اس کے اوپر ہم مل بیٹھ کر انفارمیشن منسٹری کے ساتھ این سی سی ائی ہے بڑے پیمانہ پر( masive سکیل پر) کریک ڈاؤن کر یں گے۔
یہ ہم اجازت نہیں دیں گے کہ آپ اس طرح فیک نیوز کو سپریڈ کریں۔ پورے ملک میں ایک پینک پھیلائیں اور اس کے بعد آپ کو کوئی کچھ کہہ دیں تو آپ صحافت کا لبادہ اوڑھ لین۔
خود صحافت کی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے وزیر داخلہ نے کہا، جو صحافی ہیں وہ اس ٹائم پہ ذمہ دار ہی۔ جو نیشنل میڈیا میں موجود ہیں- جن کا ایک سسٹم ہے، ہر ادارے میں، خواہ کسی بھی طرح کا ادارہ ہے، ان کا ایک سسٹم ہوتا ہے۔ اس کا چیک اینڈ بیلنس ہوتا ہے، ایٹورل بورڈ ہوتا ہے ، پھر پیمرا پلیٹ فارم ہوتا ہے ۔ سب کچھ ہوتا ہے۔ وہ صاف ہے ہمارے لیے۔
محسن نقوی نے فیک نیوز کو پھیلانے کا سبب بننے والے بنیادی فیکٹر کو ڈسکس کرتے ہوئے کہا، جو لوگ بیٹھ کے ان کی خبریں سنائیں گے جو ہخود صحافی نہیں ہیں، تو اس پہ ہم بالکل کلیئر ہیں۔
محسن نقوی نے وی لاگ کرنے والوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا، تو پلیز اپنی جو بھی آپ وی لاگ کرتے ہیں یا پوڈ کاسٹ کرتے ہیں یا اور کسی طریقے سے کرتے ہیں آپ اپنی ذمہ داری کے ساتھ خبر پھیلائیں۔
یہ نہیں ہو سکتا کہ روز ملک میں ایک نیا پینک پھیل رہا ہے کہ فلاں چیز ہوگئی، فلاں چیز ہوگئی اور اس کے بعد ان کو کوئی پوچھتا نہیں۔
محسن نقوی نے ریگولر میڈیا کی صورتحال کو ڈسکس کرتے ہوئے دہرایا،، ریگولر میڈیا میں کوئی غلط خبر فائل کریں تو سہی، دیکھیں آپ کے اپنے جرنلسٹ اس کے پیچھے پڑ جائیں گے، پوچھیں گے، یار یہ کیا کیا۔۔۔۔ تو اس چیز کی اجازت کسی صورت نہیں ہوتی تو اس میں بالکل کلیرٹی ہے اور میں اس لیے بڑی عزت کے ساتھ سب کو ریکویسٹ کر رہا ہوں کہ آپ پلیز اس کو دیکھیں۔ صحافی ہمارے لیے بالکل امپورٹنٹ ہے اور آزادی رائے بالکل امپورٹنٹ ہے اور وہ اسی طرح رہنا چاہیے لیکن فیک نیوز پھیلانے کو اب مزید برداشت نہین کرین گے، سوشل میڈیا میں فیک نیوز پھیلانے پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ہو گا۔