(ویب ڈیسک)امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سےایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گرین کارڈ پالیسی میں تبدیلی اہل درخواست دہندگان کو متاثر نہیں کرے گی ،لیکن سابق سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے اضافی بوجھ پڑنے کا امکان موجود ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ گرین کارڈ پالیسی میں تبدیلی پر تارکین وطن اور ملازمین کو یقین دہانی کرائی کہ اس سے امریکہ میں مستقل رہائش حاصل کرنیوالے اہل درخواست دہندگان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔سی بی ایس نیوز کے مطابق یہ وضاحت اس تشویش کے بعد سامنے آئی کہ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایت لاکھوں گرین کارڈ درخواست دہندگان کو ملک چھوڑنے اور اپنے معاملات بیرون ملک امریکی قونصل خانوں میں مکمل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔پہلے والی ہدایت میں ’’اسٹیٹس کی ایڈجسٹمنٹ‘‘ نامی عمل کو محدودکردیا گیا ہے، جو رشتہ داروں یا ملازمین کی طرف سے اسپانسر کئے گئے۔
امیگریشن وکلاء، کاروباری گروپوں اور تارکین وطن کے حامیوں کی تنقید کے بعد، ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے کہا ہے کہ یہ ہدایت محض طویل عرصے سے چلنے والے قانون اور پالیسی کو دہراتی ہے اور یہ پالیسی کسی بھی ایسے غیر ملکی کو گرین کارڈ حاصل کرنے سے نہیں روکے گی جو جائز اور مناسب طریقے سے اس کا اہل ہو۔
یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) کے سابق چیف کونسل لنڈن میل میڈ نے کہا کہ اس پالیسی سے درخواست دہندگان اور وکلاء پر اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ اس کے تحت امریکہ کے اندر یہ عمل مکمل کرنے کے جواز کیلئے مزید ثبوت درکار ہونگے۔ انہوں نے مزید کہاکہ بنیادی پالیسی اب بھی قانونی امیگریشن کو سست کرے گی۔
یاد رہے کہ یہ پالیسی تبدیلی ٹرمپ انتظامیہ کی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن اور زیادہ تر تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کے شہریوں کو کم قانونی امیگریشن کی اجازت دینے کی کوششوں کا حصہ نظر آتی ہے۔