ویب ڈیسک: اقوام متحدہ نے شمالی یمن میں بڑھتے ہوئے غذائی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فوری عالمی امداد نہ ملی تو لاکھوں افراد بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق یمن کی معاشی صورتحال بدستور خراب ہوتی جا رہی ہے، جبکہ فنڈز کی شدید کمی اور بگڑتے معاشی حالات کے باعث انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاکھوں شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور متاثرہ آبادی کو فوری امداد کی اشد ضرورت ہے۔
عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر انسانی امداد فراہم نہ کی گئی تو شمالی یمن میں غذائی قلت کی صورتحال خطرناک حد تک بگڑ سکتی ہے اور 2026 تک خوراک کا بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اقوام متحدہ نے عالمی برادری، امدادی اداروں اور ڈونر ممالک سے ہنگامی بنیادوں پر امداد بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں خوراک، صحت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امداد کی عدم دستیابی کی صورت میں قحط کے اثرات مزید وسیع ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں خطے میں انسانی بحران کی شدت میں اضافہ اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔