ویب ڈیسک: امریکا نے ایغور اقلیتی گروپوں سے مبینہ جبری مشقت کے الزامات کے تحت چین کی مزید 43 کمپنیوں کو درآمدی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی حکومت کے مطابق ان کمپنیوں کو ایغور فورسڈ لیبر پریوینشن ایکٹ (UFLPA) کی اینٹیٹی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کمپنیوں کی مصنوعات امریکا درآمد نہیں کی جا سکیں گی۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ان کمپنیوں کا تعلق چین کے سنکیانگ خطے میں مبینہ جبری مشقت سے ہے۔
نئی پابندیوں کے بعد اس فہرست میں شامل کمپنیوں کی تعداد 144 سے بڑھ کر 187 ہو گئی ہے۔ یہ دسمبر 2021 میں قانون نافذ ہونے کے بعد ایک ہی مرحلے میں شامل کی جانے والی کمپنیوں کی سب سے بڑی تعداد بھی ہے۔
پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں چین کی بڑی کیپیسٹر بنانے والی کمپنی ہونان آئی ہوا گروپ کے علاوہ دواسازی، دھاتوں، کپاس، خوراک اور لیتھیم کی صنعت سے وابستہ متعدد ادارے بھی شامل ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ جبری مشقت سے تیار کی گئی مصنوعات یا خام مال استعمال کرتی ہیں۔ دوسری جانب چین ماضی میں سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبری مشقت کے تمام الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔