ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ڈی جی آئی ایس پی آر: رواں سال 2084 دہشت گرد ہلاک، 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس آپریشنز

ڈی جی آئی ایس پی آر: رواں سال 2084 دہشت گرد ہلاک، 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس آپریشنز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ رواں سال ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔  بلوچستان میں 31 ہزار 80، خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں 2 ہزار 91 آپریشنز کیے گئے۔

انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی سے متعلق پریس بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے رواں سال اوسطاً روزانہ 194 آپریشنز کیے اور روزانہ تقریباً 10 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2026 کے دوران 28 خودکش حملوں کے واقعات پیش آئے، جبکہ ٹانک اور کراچی کے بعض واقعات میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں 819 افراد شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 303 جوان اور 322 شہری شامل ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، وہ یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو اب اندازہ ہو چکا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں جان بوجھ کر منفی تاثر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ اصل مسئلہ وہاں کے مخصوص سردار اور بااثر طبقے ہیں جو عوام کی ترقی نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سردار براہ راست دہشت گردی میں ملوث ہیں اور بھارت و افغانستان دہشت گردی کے مشترکہ ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے، جبکہ بھارت کی 300 سے زائد جعلی ویب سائٹس بلوچستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست کے ساتھ وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور پاکستان کے تمام سیاسی و انتظامی معاملات کا حل آئین، قانون اور جمہوری عمل کے مطابق ہی ممکن ہے۔ ان کے بقول ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ملک کو فوج چلا رہی ہے، بلکہ اس کا مقصد آئین اور قانون کی مکمل بالادستی ہے۔

انہوں نے گڈ گورننس کو پوری قوم کا مطالبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گڈ گورننس کے بغیر معاملات درست نہیں ہو سکتے اور ملک کی ترقی و استحکام کے لیے بہتر طرز حکمرانی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، اس لیے سیاست دانوں کو بہتر گورننس اور مؤثر انتظامی نظام پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ 14 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے موجود ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کیا ہم اپنے حقوق کی بات کرنے سے پہلے اپنے فرائض سے آگاہ ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے اٹوٹ انگ ہیں، کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے اور پاکستان کا سب سے لاڈلا بچہ کشمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی تقسیم میں بھی کشمیر کو نمایاں حصہ دیا جاتا ہے، جبکہ پاک فوج میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حقوق کے نام پر بعض عناصر نے کھیل کھیلا، لیکن ان کے اصل مقاصد اب سامنے آ چکے ہیں۔ ان کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے آنے والے کشمیریوں کی نمائندگی کی مخالفت بھی بعض حلقوں کی جانب سے کی گئی، تاہم پاکستان سب شہریوں کے لیے برابر ہے اور آئین کے مطابق ہی تمام مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ہی وہاں کے اصل اسٹیک ہولڈرز ہیں، جبکہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے سرپرست بھارت ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔