ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ، نئی ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست پر تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے جسٹس آف پیس کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے پولیس کو کم عمر بچی کی شادی سے متعلق سامنے آنے والے نئے شواہد کی روشنی میں معاملے کی تحقیقات کرنے اور قابلِ سزا جرم سامنے آنے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کردی۔

جسٹس منور اقبال دوگل نے شہری محمد اسلم کی درخواست پر حکم جاری کیا۔ درخواست گزار نے اپنی کم عمر بیٹی ہینا اسلم کی مبینہ غیر قانونی شادی کے خلاف اس شخص کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا جس کے ساتھ ہینا کی شادی ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔درخواست گزار کے مطابق ہینا اسلم کی تاریخ پیدائش یکم مارچ 2011 ہے اور نکاح کے وقت اس کی عمر تقریباً 15 سال تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہینا کی شادی ایک بالغ شخص محمد لقمان کے ساتھ ہوئی، جو قانون کے تحت کم عمری کی شادی کے زمرے میں آتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب چائلڈ میرج ری اسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت اگر شادی کے کسی بھی فریق کی عمر 18 سال سے کم ہو تو ایسی شادی قانون کی نظر میں قابلِ کارروائی ہے۔ عدالت نے کم عمر بچوں کے حقوق، تحفظ اور فلاح و بہبود کو بنیادی اہمیت قرار دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار پہلے اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کرا چکا ہے، تاہم بعد میں سامنے آنے والے نئے شواہد کی بنیاد پر دوبارہ ایف آئی آر کے اندراج کی قانونی گنجائش موجود ہوسکتی ہے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ نئے شواہد اور سامنے آنے والے حقائق کا قانون کے مطابق جائزہ لے کر قابلِ سزا جرم کی موجودگی کا تعین کیا جائے۔لاہور ہائیکورٹ نے جسٹس آف پیس کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پولیس کو معاملے کی دوبارہ تحقیقات کی ہدایت کردی۔عدالت نے ہینا اسلم کے تحفظ کے لیے بھی اہم حکم جاری کرتے ہوئے اسے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے حوالے کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس کی حفاظت، فلاح و بہبود اور مفادات کو یقینی بنایا جاسکے۔فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ بچے کی مرضی اور رائے اہمیت رکھتی ہے، تاہم کم عمر بچے کی مرضی کو محض اس بنیاد پر ہر صورت فیصلہ کن نہیں قرار دیا جاسکتا، کیونکہ قانون کم عمر بچوں کو خصوصی تحفظ فراہم کرتا ہے۔عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بچوں کی شادی سے متعلق قوانین کا بنیادی مقصد کم عمر بچوں کے حقوق، تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ ہینا اسلم کی حفاظت کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین عدالت میں پیش ہوئے۔
یوں لاہور ہائیکورٹ نے کم عمر بچی کی مبینہ شادی کے معاملے میں سابقہ عدالتی حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے شواہد کی بنیاد پر پولیس کو قانونی کارروائی اور تحقیقات کا راستہ فراہم کردیا، جبکہ بچی کے تحفظ کے لیے اسے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے سپرد کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔

Ansa Awais

Content Writer