منشیات کیس، رانا ثناء اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

منشیات کیس، رانا ثناء اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

(شاہین عتیق) سپیشل جج اینٹی نارکوٹکس شاکر حسن نے منشیات کیس میں رانا ثنا ءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دسمبر تک توسیع کردی،رانا ثناءاللہ کے وکلاء نے عدالتی ماحول سازگار نہ ہونے اور بدنظمی پر اپنا اجتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے عدالتی بائیکاٹ کردیا۔

سپیشل جج اینٹی نارکوٹکس کی عدالت میں سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ کو منشیات کیس میں پیش کیا گیا، پیشی سے قبل پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر تعینات کی گئی، میڈیا سمیت کسی کو بھی عدالت جانے کی اجازت نہ دی گئی۔

عدالت کے باہر پولیس نے وکلاء پر تشدد بھی کیا، رانا ثناءاللہ کے وکلاء زائد حیسن بخاری، اعظم نذیر تارڑ اور فرہاد علی شاہ ایڈووکیٹ اپنے آپ کو بچاتے ہوئے عدالت پہنچے، رانا ثناءاللہ کی آمد پر میگا فون استعمال کیا گیا، دھکم پیل اور عدالتی ماحول ساز گار نہ ہونے پر وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔

 زاہد حسن بخاری اوراعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایسے ماحول میں کیس کی پیروی نہیں کی جا سکتی، کبھی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں داخلے سے نہیں روکا گیا یہاں کیوں روکا جا رہا ہے۔

عدالت میں رانا ثناءاللہ کی پیشی کے موقع پران کی اہلیہ اورداماد پہلے ہی موجود تھے، ان کا کہنا تھا کہ پولیس جان بوجھ کر ماحول خراب کررہی ہے،عدالتوں میں گرفتار لیگی رہنماؤں کی پیشی کے موقع پر اچھا ماحول فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے، پولیس کو اس قدر آزادی دی گئی توعدالتی ماحول کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔

Sughra Afzal

Content Writer