احمد منصور: اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بھارت کی مبینہ سرحد پار کارروائیوں سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد عالمی سطح پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
باکو انیشی ایٹو گروپ (BIG) اور سکھ فیڈریشن انٹرنیشنل کی مشترکہ رپورٹ "بیونڈ بارڈرز" میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بھارت کی سرگرمیاں مختلف مغربی ممالک تک پھیل چکی ہیں اور سکھ کارکنوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سکھ رہنماؤں کو بعض ممالک میں مبینہ طور پر دھمکیوں اور سیکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے، جبکہ مختلف واقعات کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کئی کیسز بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنے۔
مزید کہا گیا ہے کہ بعض یورپی ممالک میں بھارتی مبینہ خفیہ سرگرمیوں سے متعلق قانونی کارروائیاں بھی ہوئیں، جن پر عدالتی فیصلے سامنے آئے اور بعض افراد کو سزائیں بھی سنائی گئیں۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض مغربی ممالک میں بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کی موجودگی کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جبکہ ان سرگرمیوں پر بین الاقوامی سطح پر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
دستاویز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان الزامات کی آزادانہ اور بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں اور انسانی حقوق کے ادارے اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق اس نوعیت کی رپورٹس سفارتی سطح پر مزید بحث کو جنم دے سکتی ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔